کراچی: عدالت میں بھکارنوں کی پیشی کے دوران پولیس کانسٹیبل اور خاتون وکیل میں جھگڑا

کراچی ساوتھ میں خصوصی مہم کے دوران گرفتار کی گئی بھکارنوں کو ریمانڈ کے لیے ضلع جنوبی کی عدالت میں لانے والی ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور خاتون وکیل جھگڑے کے دوران زخمی ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کی خصوصی ہدایت پر شروع کی گئی مہم کے دوران گزشتہ روز میٹھادر سے گرفتار کی گئی 7 بھکارنوں کو ریمانڈ کے لیے آج صبح سٹی کورٹ میں واقع جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ 14 کی عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی عدالت میں پیشی سے قبل ملزمان کو عدالت لانے والی لیڈی پولیس کانسٹیبل کرن سکندر اور وہاں پہنچنے والی کرن راجپوت نامی ایک خاتون وکیل کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور نوبت تکرار سے ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ پولیس ترجمان کے مطابق اس دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل 24 سالہ کرن سکندر پر تشدد کیا گیا، ڈنڈا لگنے سے کلاکوٹ انویسٹی گیشن میں تعینات لیڈی پولیس کانسٹیبل کرن سکندر کے سر پر چوٹ آئی۔

ڈی ایس پی چوہدری ارشاد کے مطابق تشدد سے کانسٹبل بے ہوش ہو گئی تھی، اسے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب سٹی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی ایڈووکیٹ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ عدالت کے باہر ایک واقعہ ہوا ہے، لیڈی پولیس کانسٹیبل نے کسی خاتون وکیل پر تشدد کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سلسلے میں وہ اور دیگر وکیل رہنما پولیس افسران کے ساتھ بیٹھے ہیں، دونوں فریقین کے مابین معاملے کی صلح صفائی کی جارہی ہے۔

پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر حامد جیلانی کے مطابق لیڈی پولیس کانسٹیبل کرن سکندر اور کرن راجپوت ایڈووکیٹ کو سول اسپتال کی ایمرجنسی لایا گیا ہے۔ ڈی ایس پی چوہدری ارشاد کا کہنا ہے کہ معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔