ملک میں بکری چور جیل جاتا ہے اور بڑی کرپشن والے آزاد ہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں بکری چور جیل جاتا ہے اور بڑی کرپشن والے آزاد گھوم رہے ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس کے ملزم ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ڈنشا کی ضمانت کی مخالفت نہیں کرتے لیکن سرکاری افسران کی ضمانت کی مخالفت کریں گے۔ جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، نیب چھوٹے افسران کو پکڑ لیتا ہے اور اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتا، نیب کے پاس اپنی مرضی سےکام کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانا ہے یا نہیں؟ ملک میں بکری چور 5 سال جیل چلا جاتا ہے جبکہ اتنی بڑی کرپشن کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکینڈل کے اصل ملزم پر نیب نے ہاتھ نہیں ڈالا، نیب کو مرضی کرنی ہے تو سیکشن 9 میں ترمیم کرے پھر جو مرضی کرے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب اپنی مرضی نہیں کرتا، ملزم کو پکڑ کر 24 گھنٹوں میں احتساب عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے، کرتا نیب ہے اور بھگتنا سپریم کورٹ کو پڑتا ہے، ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آتا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیب بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالتا، سپریم کورٹ کا نیب کے بارے میں یہ تاثر ہے تو عام آدمی کا کیا ہو گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب کی کارکردگی رپورٹ ہم نے پڑھی ہے، نیب نے اربوں روپے اکھٹے کیے ہیں، نیب پر سرکار کا ہی نہیں ہر طرف سے دباؤ ہوتا ہے، لیکن قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے اور احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب قانون کے مطابق نہیں ہو گا تو ادارے کے خلاف ایکشن لیں گے، ہم نیب سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں، نیب کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر مہربانی کروں، نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں، کوئی کام سے نہیں روکتا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سینیٹ سمیت مختلف فورم پر نیب پر بات ہو رہی ہے، نیب نے سرکاری افسروں کو دبایا، اصل بینفشریز کو پوچھا نہیں۔ جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے کہا کہ پہلا ریفرنس دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے، معلوم ہے کہ نیب مقدمات عام فوجداری کیسز نہیں ہوتے، جس کے خلاف شواہد ہوں نیب اسے گرفتار نہیں کرتا، نیب سرکاری افسروں کو سب پہلے گرفتار کر لیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ڈنشا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا ملک سے باہر نہیں جا سکتے، وہ نیب کے ساتھ تفتیش میں تعاون کریں گے۔