اقوام متحدہ کا مچھ میں دہشت گردی کی واقعے پر اظہار مذمت

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر نے مچھ میں اس دہشتگرد حملے کی مذمت کی ہے جس میں پاکستان کے علاقے مچھ میں 11 معصوم کوئلہ کنوں کی زندگیاں لے لی گئی تھیں۔ ان کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ ’سیکریٹری جنرل پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشتگرد حملے اور 11 کان کنوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور کان کنوں کے لواحقین اور پاکستان کے عوام اور حکومت سے اظہار افسوس کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی حکام اس دہشتگرادنہ عمل کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے جو ممکن ہوا وہ کریں گے‘۔علاوہ ازیں ایک علیحدہ بیان میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر کا کہنا تھا کہ وہ ’دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں 11 کوئلہ کان کنوں کی جانیں چلی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کان کنوں کے خاندانوں اور پاکستانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں‘۔مزید برآں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ان دونوں کا شکریہ ادار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بیرونی معاونت سے چلنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنی مہم میں بےمثال کامیابی دکھائی ہے۔منیر اکرم کا کہنا تھا کہ لچک، صبر اور استقامت کے ساتھ ہم امن کے ان دشمنوں اور ہماری سرحدوں سے باہر محفوظ ٹھکانوں کا مزہ اٹھانے والے ان کے آقاؤں کو شکست دیں گے‘۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات سے پتا لگا تھا کہ ان مسلح افراد نے اہل تشیع ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ان 11 کوئلہ کان کنوں کے آنکھوں پر پٹی باندھی، ان کے ہاتھوں کو باندھا جس کے بعد انہیں قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے اظہار مذمت کیا تھا جبکہ عمران خان نے ایف سی کو واقعے میں ملوث افراد کو انصاف میں کٹہرے میں لانے کا حکم دیا تھا۔وہی ہرازہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر احتجاج شروع کردیا تھا۔اگرچہ وزیراعظم کی ہدایت پر ان مظاہرین سے مذاکرات کے لیے وزیر داخلہ شیخ رشید کوئٹہ پہنچے تھے تاہم دھرنے والے مظاہرین نے عمران خان کے آنے تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔علاوہ ازیں اس خبر کے شائع ہونے تک ہزارہ برادری کے افراد کا کوئٹہ کی سخت ترین سردی میں دھرنا جاری تھا۔