فوجی انخلا تک طالبان مذاکرات طویل کرنا چاہتے ہیں، سربراہ افغان انٹیلی جنس

دوحہ: افغان حکومت کے مذاکرات کار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوحہ پہنچ گئے جبکہ کابل نے طالبان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذاکرات روک رہے ہیں۔ اب تک دونوں فریقین کے درمیان کئی مہینوں سے جاری بات چیت کا فائدہ بہت کم سامنے آیا ہے تاہم فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اگلے دور میں کیا تبادلہ خیال کرنا ہے جسے ایک پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

کابل سے دوحہ جانے والے افغان حکومت کے مذاکرات کاروں کے ایک گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم یہاں دوحہ میں ہیں اور دو گھنٹے پہلے پہنچے ہیں’۔