امریکا میں پاکستان کو اہم اتحادی کی حیثیت سے محروم کرنے کا بل پیش

واشنگٹن: ایک ریپبلکن قانون ساز نے 117 ویں کانگریس میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں پاکستان سے اس کے امریکا کے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم امریکی میڈیا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ‘یہ قانون سازی ڈونلڈ ٹرمپ کے 4 سالہ اقتدار اور اس دوران پاکستان سے الجھن کے شکار تعلقات کے بعد اگلی جو بائیڈن انتظامیہ کے پاکستان کی طرف آنے والے طرز عمل پر غیر یقینی کے دوران سامنے آئی ہے’۔واشنگٹن ٹائمز کے اخبار نے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ ‘ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے اس بل کے آگے بڑھنے کا کوئی اشارہ نہیں ہے’۔

بل کو پیش کرنے والے ایریزونا سے تعلق رکھنے والا ممتاز ریپبلکن کانگریس مین اینڈی بگس ہیں جو کمیٹی کے رکن نہیں ہے۔تاہم ان تعلقات میں ٹرمپ انتظامیہ کے آخری دو سالوں کے دوران کچھ بہتری کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جب اس نے پاکستان کی مدد سے افغان طالبان کے ساتھ امن عمل کا آغاز کیا۔اس عمل کے نتیجے میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوا تاہم وہ افغانستان سے فوجیوں کے مکمل انخلا کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے۔جو بائیڈن کی آنے والی انتظامیہ صدر ٹرمپ کی طرح فوجی انخلا کے خواہاں نہیں ہے تاہم وہ افغانستان میں امریکا کے فوجی اثر و رسوخ کو بھی کم کرنا چاہتی ہے۔

واشنگٹن میں خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ نئی انتظامیہ اپنا دور اقتدار پاکستان کے ساتھ کسی بڑے ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ شروع نہیں کرنا چاہے گی کیونکہ اس سے افغانستان میں امن کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوسکتی ہیں۔اس بل کو منظور کرنے کے لئے صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی ضرورت ہوگی کیونکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے۔واشنگٹن ٹائمز نے بھی نشاندہی کی کہ 117 ویں کانگریس کے پہلے دن – اتوار کے روز پیش کیا جانے والا بل ‘امریکی میڈیا کی بہت کم توجہ اپنی جانب کھینچ سکا تاہم اس نے بھارت میں سرخیوں کو جنم دیا جو طویل عرصے سے امریکا اور پاکستان کے تعلقات کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے’۔