افغانستان میں ہلاکتیں: امن معاہدے کے بعد امریکا کا پہلی بار طالبان پر براہ راست الزام

امریکا نے امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان میں سرکاری عہدیداروں، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری براہ راست طالبان پر عائد کردی۔ یہ الزام اسے وقت پر عائد کیا گیا جب (آج) افغان حکومت اور طالبان قطر میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے والے ہیں۔افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’طالبان کی جانب سے سرکاری اہلکاروں، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور صحافیوں پر حملے کی مہم کا مقصد امن کے حصول کے لیے کامیابی کو روکنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے ان حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری کبھی قبول نہیں کی۔واضح رہے کہ نومبر کے بعد سے ہلاک ہونے والوں میں صوبہ کابل کے نائب گورنر، 5 صحافی اور ایک اہم انتخابی کارکن شامل ہیں۔افغان عہدیداروں نے ان ہلاکتوں کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے لیکن طالبان نے حملوں سے انکار کیا ہے۔امریکی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکا، طالبان حملوں کے خلاف افغان فورسز کا دفاع جاری رکھے گا۔دوسری جانب محکمہ خارجہ نے بتایا کہ سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد، جنہوں نے گزشتہ برس معاہدے پر بات چیت کی تھی، وہ قطر واپس جارہے ہیں جہاں وہ طالبان اور افغان حکومت کے وفد سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد تشدد میں فوری طور پر نمایاں کمی اور جنگ بندی کے لیے سیاسی روڈ میپ اور اقتدار میں شیئرنگ سے متعلق سمجھوتہ کریں گے۔خیال رہے کہ افغان طالبان نے پینٹاگون کی جانب سے تقریباً 2 ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے جس سے ملک میں جاری طویل تنازع کے خاتمے میں مدد ملے گی۔طالبان کا کہنا تھا کہ ‘جتنی جلدی بیرونی فورسز واپس چلی جائیں گی اس قدر ہی جلد جنگ کا خاتمہ ہوگا’۔