احتساب کا قانون اتفاق رائے سے بنا ،سینیٹ انتخابات پرانے طریقہ پر ہی ہو نگے ، عرفان قادر

قانون کا اطلاق سب پر کرنا چاہئے ، ایسا نہیں کہ اپنی مرضی سے کسی کا احتساب کریں کسی کا نہ کریں ، قانون سب کیلئے یکساں ہے

احتساب کے دوہرے معیار کا قانون اجازت نہیں دیتا ،کئیسالوں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے پاکستان میں کچھ ادارے پولیٹکل انجیئرنگ کر رہے ہیں

جب تک اسٹیک ہولڈر ز میں اتفاق نہیں ہو گا، مسائل حل نہیں ہو سکتے ،سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا،سچی بات میں گفتگو

اسلام آباد (روزنیوز رپورٹ)سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آئین نے جو طریقہ دیا اسی طریقے سے الیکشن ہو گا، یہ سیکریٹ بیلٹ سے ہی الیکشن ہو گا، اس کے لئے آئین میں ترمیم ضروری ہے ، آئین کے آرٹیکل 226 میں لکھ دیا ہے کہ چیف منسٹر وزیر اعظم الیکشن کے علاوہ تمام الیکشن سیکریٹ بیلٹ سے ہوگا ، سپریم کورٹ آئین کی تشریض کر سکتا ہے ، بدل نہیں سکتا وہاں جانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ، سپریم کورٹ آئیں کے خلاف تو نہیں جائے گا، نیب اور سلیم مانڈوی وال اکے حوالے سے کہا کہ قانون کا اطلاق سب پر کرنا چاہئے ، ایسا نہیں کہ اپنی مرضی سے کسی کا احتساب کریں کسی کا نہ کریں ، قانون سب کیلئے یکساں ہے ، احتساب کے دوہرے معیار کا قانون اجازت نہیں دیتا ، گزشتہ کوئی سالوں سے یہ تاثر ابر رہا ہے کہ پاکستان میں کچھ اداروے پولیٹکل انجیئرنگ کر رہے ہیں ، سلیم مانڈوی والا نے سب کے حوالے سے تو کہہ دیا ہے ، احتساب کے ادارے کے حوالے ےس بھی پولیٹیکل انجینئرنگ کے حوالے سے کہا گیا ہے ، اس میں اور بھی عناصر شامل ہیں ، یہ تمام لوگ اس میں شامل ہیں ، اداروں کا تاثر جب تک اچھا نہیں ہوتا حالات بہتر نہیں ہو سکتے ، ایسے تاثرات کو ختم کیا جائے ، اسکی نفی کرنا چاہئے جہ کہ یہ پولیٹکل انجینئرنگ کا حصہ بنیں ، یہ نہیں ہونا چاہئے ، کہ کوئی کسی کی سائیڈ لے رہا ہے ورنہ پاکستان میں یہ فیصلہ سوالیہ نشان رہے گا ، عمل ایسا کریں کہ احتساب کا قانون کسی اتفاق رائے سے بنے کہ احستاب کا قانون اتفاق رائے سے بنے ، عدلیہ بھی انصاف کرانے سے معرض وجود میں آنی چاہئے ، جب تک اسٹیک ہولڈر ز میں اتفاق نہیں ہو گا، مسائل حل نہیں ہو سکتے ، پولیٹیکل اور اسٹیبلشمنٹ سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا، پھر احتساب کے قانون پر اتفاق ہونا چاہئے ، نواز شریف نے جو احتساب کا قانون بنا یا اس پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوا، عدلیہ کے حوالے سے بھی عدلیہ کا اتفاق رائے ہونا لازمی ہے ، ایسے قانون بنے سب کا اعتماد ہو ، اور سب اس پر رضا مند ہوں ، عملی جامہ پہنانا ہے تو سب کا متفق ہونا لازمی ہے ، پولیٹیکل انجینئرنگ کو اکھاڑ پھینکنا ہے اور تمام اسٹیٹ ہولڈرز کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے ۔