کمرشل ڈرونز کی عالمی منڈی میں چین کا حصہ 80 فیصد ہے، رپورٹ

بیجنگ / برلن: ڈرون مارکیٹ ریسرچ کی جرمن کمپنی ’’ڈرون انڈسٹری اِنسائٹس‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ کمرشل ڈرونز (’یو اے ویز‘ یا غیر انسان بردار جہازوں) کی عالمی منڈی میں چین تقریباً 80 فیصد حصے کے ساتھ پوری دنیا میں سرِ فہرست ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران چین میں سویلین ڈرون انڈسٹری نے تیزی سے ترقی کی ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

گزشتہ برس ’’مورڈور انٹیلی جنس‘‘ کی ایسی ہی ایک اور رپورٹ میں کمرشل ڈرونز کی عالمی منڈی میں چین کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 2013 تک چین میں ڈرونز بنانے والے 130 ادارے تھے جو 2019 میں 9 گنا سے بھی زیادہ اضافے کے ساتھ 1,200 پر پہنچ چکے تھے۔ کمرشل یو اے ویز (تجارتی و شہری مقاصد میں استعمال ہونے والے غیر انسان بردار جہازوں) کی عالمی منڈی میں بطورِ خاص چین کی ’’ڈی جے آئی انوویشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ‘‘ کو دنیا کی سب سے بڑی کمپنی قرار دیا جاتا ہے جو انٹرنیشنل ڈرون مارکیٹ میں تنِ تنہا 70 فیصد حصے کی مالک ہے۔

’’ڈرون انڈسٹری اِنسائٹس‘‘ کی جاری کردہ ’’یو اے وی مارکیٹ رپورٹ 2020-2025‘‘ کے مطابق، 2019 میں عالمی یو اے وی یعنی ڈرون مارکیٹ کا مجموعی حجم تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر رہا۔ توقع ہے کہ 2025 تک یہ حجم مسلسل بڑھتے ہوئے 42.8 ارب امریکی ڈالر، یعنی اس کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہوجائے گا۔ چائنیز اکیڈمی آف کامرس میں انٹرنیشنل مارکیٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بائی منگ کا خیال ہے کہ چین میں ڈرون انڈسٹری ایک نئی معاشی نمو کی صنعت بن سکتی ہے۔