پرتشدد پالیسیوں کے باعث اسرائیلی فوج میں شمولیت سے انکار کرنے والی یہودی لڑکی

قابض ملک اسرائیل کے ہر مرد و خاتون بالغ شخص سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار فوج میں شمولیت اختیار کرکے نہ صرف جنگی تربیت حاصل کرے گا بلکہ وہ وطن سے محبت کو بھی قریب سے سیکھے گا۔تاہم نئی نسل کے کچھ یہودی نوجوان ایسے بھی ہیں جو ریاست کی پرتشدد، انسانیت سوز اور عدم مساوات کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے فوج کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

لیکن فوج میں شمولیت نہ کرنے والے ایسے باغی نوجوانوں کو جیل جانے سمیت دیگر طرح کی سزائیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور ایسی ہی سزا برداشت کرنے والی 19 سالہ یہودی لڑکی ہلل رابن بھی ہیں۔ہلل رابن نے دیگر عام یہودی لڑکیوں کے برعکس اسرائیلی فوج میں شمولیت کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں جیل جانا پڑا۔