نواز شریف 2023کے انتخابات سے قبل واپس نہیں آئینگے،بہت مہنگائی ہے ، روزگار بھی نہیں ،ایس کے نیازی

لو گ منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں ، مہنگائی کی وجہ سے مسائل ہیں ، ان چیزوں کو کسی طریقے سے سلجھاناہو گا،حکومت کو مسائل درپیش ہیں ، سانحہ اسلام آبادافسوسناک ہے

یہ حقیقت ہے کہ کرپشن بڑھی ہے ، تحریک انصاف کے ارد گرد لوگوں کا احتساب نہیں ہو رہا، مسئلہ یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے ، جو پارٹی فنڈ دیتا ہے اس کو ٹکٹ مل جاتا ہے

الیکشن اصلاحات کا کام آگے ڈھائی سال میں بھی نہیں ہو گا ، سیاستدان سیاست میں اپنے مفاد کے تحت آتے ہیں ، پاکستان میں جمہوریت کا نظام کامیاب نہیں

ایک بات واضح ہو گئی اپوزیشن استعفے نہیں دینا چاہتی ہے ، پیپلز پارٹی کی موجیں ہی موجیں ہیں ، حکومت اور ریاست کی رٹ چیلنج کرنا اچھی بات نہیں

فضل الرحمان میرے محترم ہیں ، میں ان سے درخواست کرونگا اداروں کومتنا زعہ نہیں بنانا چاہئے ، انہوں نے میرے پروگرام میں ہمیشہ اچھی بات کی ، یہ ملک ہم سب کا ہے

پنجاب میں اچھا ایڈ منسٹریٹر لگانا چاہئے ، چوہدری نثار کی خدمات لینی چاہئے ، جب تک ریکولیٹری باڈیز درست نہ ہوں اس وقت مسئلے حل نہیں ہوسکتے ،پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر ارو روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگروام’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن اگر شو آف ہینڈ سے شفافیت آسکتی ہے ، لیکن جس نے پیسہ لیا ہو گا وہ شو آف ہینڈ سے پہلے لے گا، شو آف ہینڈ سے بھی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے ، اس مرتبہ حکومت کو پرانے طریقے سے ہی الیکشن کرانے پڑیں گے ،میثاق جمہوریت پر کیا عمل ہو رہا ہے ، آئین میں ترمیم دو تہائی اکثیرت سے ہی ہو سکتی ہے ، یہ حقیقت ہے کہ کرپشن ، مہنگائی بڑھی ہے ، تحریک انصاف کے ارد گرد لوگوں کا احتساب نہیں ہو رہا، مسئلہ یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے ، جب احتساب مخصوص طبقہ کا کیا جائے تو مشکلات پیدا ہوتی ہیں ، عملی طور پر کام کرنا ہو گا، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو پارٹی فنڈ دیتا ہے اس کو ٹکٹ مل جاتا ہے ، الیکشن اصلاحات کا کام آگے ڈھائی سال میں بھی نہیں ہو گا ، بات یہ ہے کہ سید مہدی نے ایک بات بتائی تھی کہ ہم بیٹھے تھے کہ انہوں نے کہا تھا کہ نواز شریف کو چیف منسٹری بنانا چاہے ہیں ، تو کہا تھا کہ کاروبار بند کردیں ، آگے اثاثے نہ بڑھیں تو بڑے میاں صاحب نے کہا کہ ہم کاروبار کیوں بند کریں ، سب کے کاروبار چل رہے ہیں ، سیاستدان سیاست میں اپنے مفاد کے تحت آتے ہیں ، پاکستان میں جمہوریت کا نظام کامیاب نہیں ، عوامی مسائل حل نہیں ہوتے ، جمہویرت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ، مہنگائی کنٹرول کریں تو کون روکتا ہے ، کوئی ادارے منگائی کرتے ہیں ، منی لانڈرنگ کوئی اداروے کر رہے ہیں ، یہ غلط ہے ،نئے پاکستان میں چینی سمگل ہو تی ہے ، چینی سکینڈرل میں نواز شریف ، زرداری اور جہانگیر ترین کے بھی کارخانے ہیں ، چوہدری برادران بھی شامل ہیں ،ایک بات واضح ہو گئی کہ اپوزیشن استعفے نہیں دینا چاہتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی موجیں ہی موجیں ہیں ، حکومتوں ،ریاستوں کی رٹ چیلنج کرنا اچھی بات نہیں ، اداروں کے حوالے سے بات کرنا اچھا نہیں ، سیاست میں اداروں کو گھیسٹنا اچھی بات نہیں ، فضل الرحمان میرے محترم ہیں ، میں ان سے درخواست کرونگا کہ اداروں کو متازعہ نہیں بنانا چاہئے ، انہوں نے میرے پروگرام میں ہمیشہ اچھی بات کی ، یہ ملک سب کا ہے ، انہوں نے کہا کہ زمینوں کے مسائل ہیں ، ریکارڈ میں ہیرا پھیری ہے ، جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں پرانے ماسٹر پلان کو ریویو کریں گے ، سڑکوں پر گھر بنا چکے ہیں پلازوں کو گرائیں ، ڈھائی سال ہو گئے دیکھیں ڈیمانڈ تو پڑھی نہیں ہے ، مرلے کا ریٹ آسمان پر چلا گیا ، کبھی چینی کبھی آٹے کا بحران آجاتا ہے ، حکومت ہاءوسنگ سکیم کو بھول جائیں ، اس ریٹ پر یہ کیسے لوکاسٹ سکیم بنے گا، سٹیل کا ریٹ بڑھ گیا ، چیزوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ، یہ حکومت کیلئے چیلنج ہے ، بہت مہنگائی ہے عوام چیخ رہی ہے ، روزگار بھی نہیں ہے ، منصوبے شروع نہیں ہوتا ، لو گ منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں ، مہنگائی کی وجہ سے مسائل ہیں ، ان چیزوں کو کسی طریقے سے سلجھاناہو گا، نہ کرونا ختم ہوا، حکومت کو مسائل درپیش ہیں ، سانحہ اسلام آباد بڑا غلط ہوا ہے ، پنجاب میں اچھا ایڈ منسٹریٹر لگانا چاہئے ، چوہدری نثار کی خدمات لینی چاہئے ، اس کو وزیر اعلیی پنجاب لگائیں تو چوہدری نثار سر کے بل چل کر آئیں گے ، جنوبی پنجاب کا صوبہ بنا دینا چاہئے ، ہزارہ صوبہ بھی بننا چاہئے ، بجلی ، گیس کے معاملات ایسے ہیں کہ جب تک ریکولیٹری باڈیز درست نہ ہوں اس وقت مسئلے حل نہیں ہوسکتے ، کوئی بھی بجلی چوری نہیں کر سکتا جب تک ادارے کا بندہ شامل نہ ہو، نواز شریف کو باہر بھیجا ہے ، واپس آنے کیلئے نہیں بھیجا ، وہ چار پانچ سال تو نہیں آسکتے ، نواز شریف کی واپسی حکومت کیلئے مصیبت کھڑی کرے گی، یاد رکھیں کھانے کے دانت اور اور دکھانے کے دانت اور ہوتے ہیں ، عمران خان کوشش تو کرتے ہیں ، کم از کم گفتار کے نمازی ہیں ، نواز شریف 2023کے انتخابات سے قبل واپس نہیں آئینگے ۔