پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پیپر لیک اسکینڈل میں حیرت انگیز انکشافات

لاہور: پنجاب پبلک سروس کمیشن میں پیپر لیک کے اسکینڈل میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے ملزم غضنفر کے کمرے میں چھاپہ مار کر نقدی اور دستاویزات برآمد کرلیں۔ اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے کمیشن کی سیکریسی برانچ اور ملزم غضنفر کےکمرے میں چھاپہ مارا گیا تو اس دوران سیکریسی برانچ کے ایک کمپیوٹر پر یو ایس بی کی سہولت نے کئی سوالات اٹھا دیے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق کمیشن کے جونیئر کمپیوٹر آپریٹر وقار اکرم نے تحصیلدار کی آسامی کا پیپر یو ایس بی کے ذریعے لیک کرنے کا اعتراف کیا جس پر کمیشن نے پیپر منسوخ کردیا جب کہ ملزم وقار اکرم پیپر چوری کرتا تھا اور غضنفر فروخت کرتا تھا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم غضنفر محکمہ خزانہ کا ملازم اور پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کا طالب علم ہے، اس کے کمرے سے امیدواروں کی رول نمبر سلپس، پرانے پیپرز اور ہزاروں روپے کیش برآمدکیا گیا۔

اینٹی کرپشن حکام نے بتایا کہ انہوں نے اینٹی کرپشن انسپکٹر کی خالی آسامیوں کے غیر معمولی نتائج کے بعد ازخود تحقیقات شروع کیں۔ دوسری جانب پبلک سروس کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ مختلف آسامیوں کے لیے اس ہفتے ہونے والے تمام انٹرویوز ملتوی کر دیےہیں جن کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔