رابطہ کمیٹی کا اجلاس؛ چیئرمین بورڈ کے رویے پر ارکان چراغ پا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین پی سی بی کے رویے پر چراغ پا ہوگئے جب کہ پیش نہ ہونے پر واک آؤٹ کردیا۔آغا حسن بلوچ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں احسان مانی کے شریک نہ ہونے پر اراکین نے واک آؤٹ کردیا، اس موقع پر شاہدہ رحمانی نے کہاکہ ایک سال سے چیئرمین نہیں آ رہے،حکام ڈالرز میں پیسے لے رہے ہیں لیکن ہمیں جواب نہیں دے رہے، چیئرمین نے ڈھائی سال میں کتنے پیسے خرچ کیے اس کا جواب آنا چاہیے۔

رانا مبشر اقبال نے کہاکہ احسان مانی کیوں اجلاس میں نہیں آتے، پی سی بی حکام ڈالرز میں تنخواہ لیتے ہیں ان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا جا رہا؟آئندہ میٹنگ میں بریفنگ دی جائے۔چیئرمین کمیٹی نے کرکٹ اور ایسوسی ایشن کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کا اعلان کیا جس کے کنونیئر اقبال خان، ارکان رشید احمد خان، شاہدہ رحمانی اور منورہ بی بی بلوچ ہوں گی۔

رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی نے کہا کہ کرکٹ میں فکسنگ بہت زیادہ ہے۔ پی ایس ایل5 کے میچز کی بیٹنگ ویب سائٹس پر لائیو اسٹریمنگ سے سب سے زیادہ جواہوا، پہلے پی سی بی نے انکار کیا پھر مانے کہ براڈکاسٹ پارٹنر نے اسٹریمنگ کا معاہدہ کیا،کھیلوں میں کرپشن کیخلاف میں نے بل پیش کر دیا ہے۔پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے کہا کہ فکسنگ پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے، ملوث کرکٹرز کو بھی سزا دینے کا قانون موجود ہونا چاہیے۔