پی ٹی وی چیئرمین نعیم بخاری اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے

اسلام آباد: پی ٹی وی کے نئے چیئرمین نعیم بخاری نے اپوزیشن کو پی ٹی وی پروگرامز میں نہ بلانے کے اپنے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہےکہ اپوزیشن کو نہ بلانے والی بات مذاق میں منہ سے نکل گئی تھی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات میں پی ٹی وی کے نئے چیئرمین نعیم بخاری سے کمیٹی ارکان نے سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

کمیٹی رکن نفیسہ شاہ نے سوال کیاکہ آپ کیا سرکاری ٹی وی پرصرف حکومتی ارکان کو ہی موقع دیں گے؟کیا آپ اپوزیشن کو بھی مؤقف پیش کرنے کا پی ٹی وی پر موقع دیں گے؟ اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کو نہ بلانے والی بات مذاق میں منہ سے نکل گئی تھی، اپوزیشن کو پی ٹی وی پر مؤقف دینے کا موقع دیں گے۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وہ بات کرتے ہیں تو پھر شکوہ کیا جاتا ہےکہ سخت بات کرتا ہوں، آپ سب سیاست دان ہیں، آپ خود دیکھ لیں کہ شام 7 سے رات 11 بجے تک تمام نجی نیوز چینلز پر صرف سیاست دکھائی جارہی ہوتی ہے، ایک ہی چہرے تمام چینلز پر نظر آرہے ہوتے ہیں، عوام کے لیے نیا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی ریاست کا چینل ہے لہٰذا پی ٹی وی پروگرامز میں تبدیلی لائیں، اگلے ماہ سے پی ٹی وی پر نئی پروگرامنگ نظر آئے گی، اس کے لیے نظام نئی نسل کو منتقل کریں گے۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی وی کو سیدھی ڈگر پر لانے کے لیے 6 ماہ کے لیے اعزازی چیئرمین بنے ہیں، تنخواہ یاکوئی مراعات نہیں لے رہے جب کہ پی ٹی وی کے بھاری تنخواہوں والے اسٹاف کو بھی فوری ہٹا دیا ہے، ایم ڈی ساڑھے 21 لاکھ سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں انہیں معطل کردیا ہے، اب پی ٹی وی میں کسی اینکر کو ساڑھے 3 لاکھ سے زیادہ تنخواہ نہیں دیں گے، سفارش پر ہونے والی بھرتیاں روک دی ہیں، پی ٹی وی میں کچھ بھی غلط ہو ،وہ جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی وی میں دوہری شہریت کے لوگ بھی موجود ہیں، ادارے میں تحقیقات کررہے ہیں، فراڈ ثابت ہوا تو وہ خود ایف آئی اےیا نیب کو درخواست دیں گے۔