ایک اور طالب علم پولیس گردی کا نشانہ بن گیا

By @NaveedMurtaza11

ہنزہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سلطان نظیر جو پڑھائی اور روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھا، کل رات کراچی میں حبیب بنک چورنگی کے قریب پولیس کی فائرنگ سے شہید ہوا ہے۔

پولیس انکو دہشت گرد قرار دے رہی ہے اور موبائل بھی پولیس کے قبضے میں ہے۔ یاد رہے کی سلطان بائکیا کر کے گھر جا رہا تھا اور راستے میں موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہوا کے بعد بائکیا رئڈر اور سلطان پیدل بائیک کو پیٹرول پمپ تک لے کر جارہے تھے، اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔

تٖصیلات کے مطابق کراچی سائٹ پولیس اسٹیشن اے کے حدود میں خانہ آباد ہنزہ کا نوجوان پولیس گردی کا شکار
سلطان نذیر ولد محبت شاہ پر اتوار رات 9:30 پر اس وقت گولیاں چلائی گئی جب وہ ایک رشتہ دار کی میت میں شرکت کے بعد میٹرول جارہا تھا۔ پولیس کے مطابق سلطان نذیر مبینہ طور پر اسٹریٹ کریمنل تھا۔ پولیس سےحاصل کردہ معلومات کے مطابق سلطان نذیر کی لاش جناح اسپتال بھجوائی گئی ہے لیکن جناح اسپتال کی عملے کا موقف ہے کہ مزکورہ ناکام سے کو لاش موصول نہیں ہوئی ہے۔
مقتول بائکیا پر سوار تھا جب کہ بائکیا کا مالک زندہ ہے اور خوف کے باعث بیان دینے سے گریز کررہا ہے۔
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور لواحقین کی بڑی تعداد تھانہ سائٹ کے باہر احتجاج کررہے ہیں
شرکاء کا مطالبہ ہے کہ لاش لواحقین کے حوالے کی جائے اور ساتھ ہی تحقیقات کی جائے اور مزکورہ واقع میں ملوث پولیس کو گرفتار کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے