سینیٹ اجلاس: ڈپٹی چیئرمین کا نیب کی ‘خلاف ورزیوں’ کو انسانی حقوق کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ایوان کی انسانی حقوق کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ و پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سلیم مانڈوی والا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ‘پہلی مرتبہ نیب کا معاملہ سینیٹ ایجنڈا پر آیا ہے، نیب نے سینیٹرز کو پریشان کر رکھا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نیب کو خط لکھا تھا کہ کسی سینیٹر کو گرفتار کرنے سے قبل یا انہیں بلانے سے قبل سینیٹ کو اطلاع دی جائے، چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ اس حوالے سے سینیٹ کو اطلاع دیا کریں گے اور اس پر عمل جاری بھی تھا، لیکن روبینہ خالد دو سال سے احتساب عدالت میں در بدر ہو رہی ہیں اور نہ ان کا کیس چلتا ہے، محسن عزیز روس میں تھے جب انہیں فون آیا کہ نیب نے مالم جبہ کیس میں آپ کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘شیری رحمٰن کے سابقہ شوہر سے جبراً 164 کا بیان لکھوایا گیا، وہ انتہائی شریف آدمی ہیں، میرے پاس اب تک ان افراد کی 100 درخواستیں آچکی ہیں جو جیل میں ہیں یا نیب عدالتوں میں رُل رہے ہیں، ان کے ساتھ نیب کی جانب سے زیادتی ہو رہی ہے’۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ‘مجھے کہا گیا کہ ہم آپ کے چیئرمین سینیٹ کو بھی دیکھ لیں گے، کس ادارے میں اتنی جرات ہے کہ وہ کہے کہ چیئرمین سینیٹ کو دیکھ لیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کیس چلانے سے پہلے میڈیا میں عزت کو اچھالا جاتا ہے، میں نے کہا کہ مجھ سے ہونے والی تحقیقات کو میڈیا میں چلائیں، نوٹس کو تو بہت میڈیا پر چلاتے ہیں، مجھ سے پوچھا گیا کہ اپ منگلا کور کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں، کہا گیا کہ آپ بے نامی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے منگلا کور کے ساتھ بے نامی ٹرانزیکشن کی؟ پورا ملک اس پر ہنس رہا ہے، اس ایوان کے ذریعے مطالبہ کیا جائے کہ کسی کی میڈیا میں پگڑی نہیں اچھالی جائے گی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے ایک وفاقی وزیر کا فون آیا کہ آپ ہمارے دل کی آواز ہیں، ہم نیب کے ساتھ کام نہیں کر سکتے، یہ کام کیوں نہیں کر پارہے؟ کیا حکومت کو یہ علم نہیں ہے’۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ‘کوئی ایوان میں سے کہے کہ سلیم مانڈوی والا نے کرپشن کی ہے، نیب کی حراست میں لوگ مر رہے ہیں، خرم ہمایوں کے ساتھ 10 سال سے کام کر رہا تھا اس نے خودکشی کر لی، نیب کسی کے کنٹرول میں نہیں، اسے لگام دینا ہوگی، نیب کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو انسانی حقوق کمیٹی کے سپرد کریں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کیا نیب افسران کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟ کیا نیب افسران خاص لوگ ہیں، کیا انہیں استثنیٰ حاصل ہے؟ نیب افسران کے اثاثے، ڈگریاں، ڈومیسائل چیک کیے جائیں، نیب افسران کی بھرتیاں کیسے ہوئیں، چیک کیا جائے’۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا نے بہت اہم مسئلہ اٹھایا ہے، میں، ڈپٹی چیئرمین اور ڈاکٹر شہزاد وسیم بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ ہم اس حوالے سے کیا کر سکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قومی ادارے میں بہتری آئے۔
احتساب کے عمل پر وزیر اعظم کے مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ‘احتساب کا عمل صرف پاکستان کا تجربہ نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی احتساب کا عمل چل رہا ہے، ایسے ادارے وہاں کام کر رہے ہیں اور ایسی ہی وہاں قانون سازی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ذرائع سے زیادہ آمدن قانون بطور جرم موجود ہے، دیگر ممالک میں بھی احتساب کی یہی شقیں ہیں جبکہ بھارت میں بھی بغیر وارنٹ کے گرفتاری ہوتی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اقوام متحدہ کی کرپشن کے خلاف کنونشن کے تحت پابند ہیں کہ احتساب کا ادارہ ہو، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی قانون سازی کو لے کر نیب قوانین میں تبدیلی کی بات کی گئی، سپریم کورٹ کی فیصلے میں ہے کہ قانون میں لازم ہے کہ احتساب کے نظام کو بہتر بنائیں، جبکہ احتساب کا ادارہ اور قانون ہم نے نہیں بنایا’۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘پاکستان میں 10 سال نااہلی کا قانون ہے لیکن ارجنٹینا میں ساری عمر کی نااہلی ہے جبکہ کچھ ممالک مین عمر قید کی سزا ہے، نیب کا آرڈیننس کی 1996 میں پہلی صورت سامنے آئی اور نگراں حکومت نے اسے بنایا، نجم سیٹھی اس احتساب کمیٹی کے چیئرمین بنے، بعد میں یہ احتساب قانون بنا’۔

نیب کی کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 27 ماہ میں پنجاب میں 206 ارب روپے کی ریکوری کی گئی جو پہلے دس سال میں 3 ارب کی تھی، نیب نے دو سال میں مجموعی طور پر 389 ارب کی ریکوری کی، اس سے قبل دس سال قبل کی مکمل 104 ارب روپے کی ریکوری تھی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘دونوں حکومتوں نے دس سالوں میں بہت ترامیم کیں لیکن نیب قانون میں ایک ترمیم نہیں کی گئی، پاناما کیس ہمارے دور حکومت میں شروع نہیں ہوا تھا، جعلی اکاؤنٹ کیس بھی ہماری حکومت میں نہیں شروع ہوا، ہم نے ان چیزوں میں مداخلت نہیں کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ لوگ میڈیا ٹرائل کی بات کرتے ہیں، جس چیز پر ایکشن ہو چکا ہے اگر وہ میڈیا ٹرائل ہے تو ہمیں عدالت میں لے جائیں، کوئی کسی کی پگڑی نہیں اچھالتا، اس کو خود ایشو بنایا جاتا ہے، اگر آپ ایسا کام کریں گے تو دوسری پارٹی بھی جواب دے گی’۔

مشیر احتساب نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی حکومت نیب قانون میں بہتری لانے کے لیے آرڈیننس لائی جو اسے ایوان سے مسترد ہوگیا، اپوزیشن کی نیب ترامیم میں 34 میں سے ساڑھے 33 ایسی ہیں جو ہم مان نہیں سکتے، ہم ہر طرح کی بات کرنے کو تیار ہیں جو ایک شخص کے لیے نہیں ہونی چاہیے جبکہ ہم وہ ترامیم نہیں کر سکتے جو ہمارے منشور، مینڈیٹ کے خلاف ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نیب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی رپورٹ اخبار میں پڑھی کہ نیب کی تحویل میں 13 اموات ہوئیں، یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی، 11 اموات جوڈیشل ریمانڈ میں ہوئیں جس میں آپ نیب کی تحویل میں نہیں جیل میں تھے اس مین نیب کا قصور نہیں، اسد منیر کبھی گرفتار نہیں ہوئے تھے، انہیں منسلک کرنا نیب سے زیادتی ہے، باقی 2 اموات نیب کی تحویل میں ہوئیں لیکن ان میں کوئی تشدد کا الزام نہیں تھا’۔

حکومت ہزارہ برادری کے زخموں پر مرہم رکھے، شیری رحمٰن
اجلاس کے دوران بلوچستان میں کان کنوں کے قتل کا معاملہ بھی زیر حث آیا اور پیپلز پارٹی نے معاملہ سینیٹ میں اٹھایا۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ بلوچستان میں کان کنوں کے قتل کا معاملہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے، بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے، ہماری حکومت میں وزیراعظم اور وزرا جاکر ان کے ساتھ زمین پر بیٹھے تھے’۔
انہوں نے کہا کہ اس طبقے کو تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے، حکومت کا کام ہے ان کے زخموں پر مرہم رکھے، حکومت حفاظت کے کیا اقدامات لے رہی ہے؟ وزیر اعلیٰ بلوچستان رحم دلی دکھائیں اور ان کے پاس فوری طور پر پہنچیں’۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ہزارہ برداری کے تحفظ میں ریاستی ادارے ناکام کو چکے ہیں، ہزارہ برادری ان واقعات کے باعث ہجرت کر رہی ہے، وزیر اعظم فون مت کریں، خود وہاں جائیں جبکہ جس گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ان سے ہمارے ادارے آگاہ ہیں’۔