میزائل حملے کے بعد عدن ایئرپورٹ کو دوبارہ کھول دیا گیا

صنعا: یمن میں عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا، ایئرپورٹ کو میزائل حملے کے بعد بند کیا گیا تھا جس میں 27 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ یمن میں عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے بحال کردیا گیا ہے۔ عدن ایئرپورٹ کو میزائل حملے کے بعد بند کردیا گیا تھا، حملے میں کم سے کم 27 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ حملہ گزشتہ بدھ سعودی عرب سے آنے والی اس پرواز کے لینڈ کرنے کے فوراً بعد ہوا تھا جس میں یمن کی نئی بننے والی کابینہ کے ارکان سوار تھے۔

ایئرپورٹ کی بحالی تقریب میں عدن کے گورنر احمد لملس، وزیر داخلہ ابراہیم حیدان، وزیر ٹرانسپورٹ عبدالسلام حمید، وزیر منصوبہ بندی و عالمی تعاون واعدباذیذب اور عدن میں عرب اتحاد افواج کے کمانڈر نایف العتیبی سمیت متعدد عہدیدار شریک ہوئے۔ سعودی عرب نے میزائل حملے سے عدن ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصانات اور تباہ شدہ مقامات کی اصلاح و مرمت ریکارڈ وقت میں انجام دی ہے۔

گورنر عدن نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثابت قدمی کے مظاہرے پر ایئرپورٹ کے اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں، ان کی کاوشوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک بار پھر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عدن دہشت گردوں کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدن امن کا علمبردار شہر ہے، عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کروائے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں ساتھ دینے والے تمام فریقوں کے شکر گزار ہیں، ہمارے شکریہ کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے سعودی بھائی ہیں۔ سعودی عرب نے حملے کے 24 گھنٹے کے اندر ٹھیکے دار، کنسلٹنٹ، تیکنیکی امور کے ماہرین اور انجینیئرز کی پوری ٹیم عدن ایئرپورٹ کی بحالی کے لیے یمن بھیج دی تھی۔ یمنی حکام کے مطابق ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیے جانے کے بعد اتوار کو خرطوم سے پہلی پرواز نے لینڈ کیا، یمنی وزیر داخلہ اور دیگر حکام پرواز کے خیر مقدم کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔