سعودی عرب میں ہزاروں سال پُرانے پتھروں کے اوزار دریافت ہو گئے

سعودی عرب کو اصل پہچان تو خاتم النبیین کی ولادت اور پھر اللہ تعالیٰ کے انسانی فلاح و بہبود کے عظیم پیغام کے پرچار کے بعد ملی ہے، اس سے پہلے سعودی باشندوں کو دُنیا میں بہت کم جانا جاتا تھا۔اسلامی فتوحات نے دُنیا بھر کو عرب تہذیب و ثقافت سے روشناس کروایا۔ عرب تہذیب کے اب ایسے آثارسامنے آ رہے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے بھی عرب باشندے فن تعمیر، دستکاریوں اور دیگر فنون میں ماہر تھے۔

جس کی ایک تازہ ترین مثال پتھروں کی بنی کلہاڑیوں کا سامنے آنا ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب میں قومی اور تاریخی ورثے کی اتھارٹی کی ایک ٹیم کو قصیم صوبے میں واقع آثار قدیمہ کے مقام "شعیب الادغم” میں حجری اوزار (پتھروں سے بنے اوزار) ملے ہیں۔ان حجری اوزاروں کا تعلق پتھروں کے قدیم دور کی آشولی تہذیب سے ہے۔مذکورہ اتھارٹی نے ایک اخبار بیان میں واضح کیا ہے ک دریافت ہونے والے حجری اوزار پتھروں سے بنی دستی کلہاڑیوں کی صورت میں ہیں جن کو بہت باریک بینی کے ساتھ نہایت درست شکل میں تیار کیا گیا۔

قصیم صوبے میں اس مقام کو مملکت کی سطح پر پتھروں کے دور کے ایک اہم مقام کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ آشولی تہذیب تقریبا 2 ہزار سال پرانی ہے۔ حالیہ دریافت ہونے والی دستی حجری کہاڑیوں کو اس زمانے کے لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کیا کرتے تھے۔ آشولی تہذیب کو حجری اوزاروں کی تیاری کے حوالے سے ممتاز حیثیت حاصل ہے۔

یہ اوزار اس زمانے میں نہایت اہم ضرورت شمار ہوتے تھے۔شعیب الادغم میں حجری اوزاروں کی کثرت سے اس مقام پر بسنے والے معاشروں میں بھرپور انسانی کثافت واضح ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا بھی پتہ دیتے ہیں کہ جزیرہ عرب کی آب و ہوا اور ماحول ان لوگوں کے یہاں بسنے اور یہاں دستیاب قدرتی وسائل سے مستفید ہونے کے لیے نہایت موزوں تھا۔سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آشولی تہذیب کے مقامات (جن میں شعب الادغم بھی شامل ہے) وادیوں اور نہروں سے آراستہ تھے۔ یہ بات بھی معلوم ہے کہ جزیرہ عرب میں بسنے والے لوگ وسیع جغرافیائی فاصلوں تک منتقل ہونے کی قدرت رکھتے تھے۔