سعودی حکومت نے تارکین اور مقامی افراد کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کر دیا

سعودی عرب میں ہر سال ہزاروں ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں جن میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ، شدید زخمی ہو کر مفلوج ہو جاتے ہیں یا پھر تھوڑے زخمی ہونے پر ہسپتالوں میں علاج کروانے کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ سعودی حکومت نے انشورنس پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے بعد اب ہر ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے والے مقامی اور سعودی افراد کے علاج معالجے کے تمام اخراجات انشورنس کمپنیاں برداشت کریں گی۔

سعودی ہیلتھ انشورنس کونسل نے سرکاری ہسپتالوں اور انشورنس کمپنیوں کے مابین معاملات طے کرنے کے لیے انشورنس پالیسی میں تبدیلی کر دی ہے۔کونسل نے انشورنس قانون کی دفعہ 11 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق ٹریفک حادثات میں زخمیوں کا علاج انشورنس کمپنیوں کے ذمے ہوگا۔مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ہیلتھ کونسل کے ترجمان عثمان القصبی نے واضح کیا ہے کہ ’انشورنس قانون کی دفعہ 11 پہلے سے موجود تھی تاہم اس پر عمل نہیں ہورہا تھا، اب ہم نے اسے بحال کر دیا ہے‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’پہلے ہوتا یہ تھا کہ ٹریفک حادثات میں زخمیوں کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں مفت ہوتا تھا‘۔’مذکورہ دفعہ فعال ہونے کے بعد اب سرکاری ہسپتال ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کے علاج معالجے کے اخراجات انشورنس کمپنی سے وصول کریں گے‘۔’مذکورہ دفعہ کا تعلق سرکاری ہسپتالوں اور میڈیکل انشورنس کمپنیوں کے معاملات سے ہے‘۔’جن شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کا میڈیکل انشورنس ہے اور وہ ٹریفک حادثے میں زخمی ہوکر سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے لائے جاتے ہیں تو ان کے اخراجات انشورنس کمپنی کو ادا کرنا ہوں گے‘۔