کوچوں کو چیئر لیڈرز بننے کی بجائے اپنا اصل کام کرنا ہوگا: عامر سہیل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے قومی کرکٹ ٹیم کیلئے کوچز کی تقرری کے ناقص انتخابی عمل پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر سخت تنقید کی۔ 54 سالہ عامر سہیل نے کہا کہ کوچوں کو صرف ستائش اور تالیاں بجانے کیلئے استعمال ہونے کی بجائے کھلاڑیوں کی پریشانیوں کو حل کرنے میں مدد کرنی چاہیئے ، عامر سہیل کا کہنا تھا کہ جب پی سی بی سابق ​​کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کیلئے کوچنگ کے کردار میں لاتے ہیں تو ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کرتے وقت اپنے تجربے کو استعمال کریں گے، کھلاڑیوں کی کمزوریوں اور طاقتوں کی نشاندہی کرنا ایک کوچ کا کام ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر اسے کھلاڑی کو ان مسائل کو حل کرنے کیلئے مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مخالف ٹیم اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہ ہو۔قومی ٹیم کے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ صرف شاباش اور حوصلہ افزائی کے الفاظ کہنے کیلئے کوچز رکھنے سے اس کے بنیادی مقصد کو شکست ہوتی ہے، اگر یہی کرنا ہے تو آپ کوچز کو نکالیں اور ایسے لوگ بھرتی کریں جو کھلاڑیوں کو خوش کرنے کے لئے تالیاں بجائیں گے، مجھے یقین ہے کہ ایسے افراد کی خدمات لینے کا خرچہ بہت کم ہوتا ہے ۔

عامر سہیل فاسٹ بائولر نسیم شاہ کو پہلا ٹیسٹ کھلانے کے فیصلے سے بھی مطمئن نظر نہیں آئے جن کا کہنا تھا کہ نسیم شاہ کی مثال لیں جس کو واضح طور پر اپنے ایکشن میں کوئی پریشانی درپیش ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی اسے ٹھیک کرنے کے قابل نہیں ہے جس کی ہمارے کوچز سے توقع کی جارہی تھی۔ عامر سہیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کوچز کی کوچنگ کے بارے میں معلومات کے اس پہلو کو کسی انٹرویو کے وقت پرکھا جاسکتا تھا ۔

عامر سہیل نے مزید کہا کہ اگر کوئی ممکنہ امیدوار پاکستان کے کوچ کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے تو وہ کون سے تکنیکی ان پٹ ٹیبل پر لا سکتا ہے اس کی واضح طور پر کوئی تحقیقات نہیں ہوتیں اور افسوس کی بات ہے کہ اب وہ ٹیم کی پرفارمنس میں نظر آرہا ہے۔ عامر سہیل نے کہا کہ وہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کو نہیں بلکہ ان لوگوں کو ذمہ دار ٹہرارہے ہیں جنہوں نے ان کی تقرری کی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصباح کی تقرری پی سی بی کے انتخاب کے طریقہ کار کی خامیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ عامر سہیل نے کہا کہ درست طریقہ یہ ہے کہ سابق کھلاڑیوں کو پہلے نچلی سطح پر کوچنگ کرنے کا کہا جائے اور جب وہ وہاں کامیاب ہوجائیں تو ان کوچز کو پاکستان انڈر 19 اور پھر پاکستان شاہینز کا کوچ بنایا جائے ، ایک بار جب کوئی کوچ ان تمام مراحل پر کامیاب ہو تب اسے قومی ٹیم کا کوچ بنانے پر غور کیا جائے۔