ڈبلیو ایچ او نے فائرز ویکسین کو ہنگامی طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے فائزر اور بائیو این ٹیک کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ عالمی وبا کرونا وائرس کی ویکسین کو ہنگامی طور پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب کسی ویکسین کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے آج ہنگامی استعمال کے لئے فائزر اور بایو این ٹیک ویکسین کو منظوری دے دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریانجیلہ سیماؤ نے اپنے بیان میں کہا کہ کوویڈ 19 ویکسینوں کی عالمی سطح پر رسائی کو یقینی بنانے کے لئے یہ ایک بہت ہی مثبت قدم ہے،لیکن میں کہیں بھی ترجیحی آبادیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ویکسین کی فراہمی کی خاطر زیادہ سے زیادہ عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دینا چاہتا ہوں۔

قابل ذکر ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک نے کرونا ویکسین تیار کی ہے لیکن اس وقت ڈبلیو ایچ او نے صرف ان دو ویکسینز کو ہی تسلیم کیا ہے۔ایک سال قبل جب بیجنگ نے سب سے پہلے ایک نیا کرونا وائرس سارس کووڈ 2 کی نشاندہی کی تھی جس کی وجہ سے کوویڈ 19 وبائی امراض پھیلا اس وقت تک چین سے باہر کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔لیکن آج امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی آف میڈیسن کے مطابق دنیا بھر میں کووڈ 19 کے 83 ملین سے زیادہ کیسز اور 1.8 ملین سے اموات ہوچکی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ سال دو دسمبر کو برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بنا تھا جس نے عالمی وبا کرونا کے خلاف ویکسین کے استعمال کی منطوری دی تھی، برطانیہ کی جانب سے امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن بایوٹیکنالوجی کمپنی بائیو ٹیک کے تیار کردہ ویکسین استعمال کی گئی تھی جبکہ روس پہلے ہی اپنی تیارہ کردہ سپوتنک وی ویکسین استعمال کرنے والا دوسرا ملک تھا۔