پاکستان کا سرکاری قرض بڑھ کر 355 کھرب 55 ارب روپے تک پہنچ گیا

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے آخر تک وفاقی حکومت کا قرض 27 کھرب 57 ارب روپے یا 8.41 فیصد اضافے سے 355 کھرب 55 ارب روپے تک پہنچ گیا جو 2019 کے اسی عرصے میں 327 کھرب 98 ارب روپے تھا۔

رواں سال جون کے 351 کھرب 6 ارب روپے کے مقابلے میں سرکاری قرض میں 1.28 فیصد یا 450 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

اس کا زیادہ تر حصہ مقامی قرضوں سے آیا جو جولائی کے آخر تک 233 کھرب 92 ارب روپے تک پہنچ گیا اور اس میں گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 220 کھرب 10 ارب کے مقابلے میں 13 کھرب 80 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا۔

مزید یہ کہ پاکستان سرمایہ کاری بانڈز جو وفاقی حکومت کے طویل مدتی قرض میں شیئر کا حصہ ہے، اس میں 21 کھرب 89 ارب روپے یا 19.88 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ جولائی کے آخر تک 131 کھرب 95 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ گزشتہ سال یہ اسی عرصے میں یہ 110 کھرب 6 ارب روپے تھا۔

اسی طرح پرائز بانڈز کا اسٹاک جولائی تک 733 ارب 60 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا جس میں 2019 کے اسی ماہ کے مقابلے میں 45 ارب 80 کروڑ روپے جبکہ رواں سال جون کے مقابلے میں 50 کروڑ روپے کی کمی دیکھی گئی۔

قلیل مدتی قرض کو دیکھیں تو مارکیٹ ٹریژری بلز گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 62 کھرب 10 ارب روپے سے کم ہوکر جائزے کے اختتام تک 53 کھرب 32 ارب روپے پر موجود رہے۔

علاوہ ازیں جولائی کے آخر تک مرکزی حکومت کے بیرون قرض 121 کھرب 64 ارب روپے تھے جو جون کے 107 کھرب 86 ارب روپے کے مقابلے میں 13 کھرب 78 ارب روپے زیادہ تھے۔

یہ طویل مدتی قرض کے ذریعے چل رہا تھا جس کی جولائی کے آخر تک رقم 119 کھرب 77 ارب روپے تھی جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 106 یہ کھرب 55 ارب روپے تھی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے کچھ روز قبل شائع کیے گئے ایک اور ڈیٹا سیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون کے اختتام تک پاکستان کا سرکاری بیرون قرض 87 ارب 88 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا جو 2019 کے اسی ماہ کے 83 ارب 93 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 3 ارب 94 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ادھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے لیے ملک کا واجب الادا قرض مالی سال 20 تک 7 ارب 68 کروڑ ڈالر تھا جو مالی سال 2019 کے 5 ارب 64 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر زیادہ تھا۔