زرعی شعبے کو ٹڈی دل سے شدید نقصان، متاثرین کو بجٹ میں مراعات ملنے کی توقعات

کراچی: زراعت کا شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، رواں سال پہلے کورونا وائرس اور پھر ٹڈی دل کے باعث زراعت کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ بجٹ میں حکومت اس شعبے کے لیے مراعات کا اعلان کریگی۔ خوش قسمتی سے پاکستان کا شمار زرعی ممالک میں ہوتا ہے، پاکستان گندم، گنا، چاول سمیت پھلوں اور سبزیوں میں بھی خود کفیل ہے۔ کووڈ 19 میں عالمی سطح پر لاک ڈاون کے باعث جہاں عوام کو ایک اطمینان یہ تھا کہ ان کا ملک خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہے، وہیں ملک میں لاک ڈاون کے باعث ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور دیگر تقریبات پر پابندی کے باعث اجناس کی کھپت بہت کم ہونے کے باعث کاشت کاروں کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ رہی سہی کثر ٹڈی دل نے پوری کر دی۔

کاشت کاروں کا کہنا ہےکہ حکومت کو زرعی شعبے کی ترقی کےلیے جامع پلان بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں فوڈ پروسیسنگ، کولڈ سٹوریج اور زرعی مصنوعات کی برینڈنگ سمیت ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ساتھ ہی زرعی ملک ہونے کے باوجود دالیں درآمد کی جارہی ہیں، فوڈ بزنس کے کاروبار سے منسلک سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ میں اقدامات لے تو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔

پاکستان میں زراعت ابھی تک فرسودہ طریقوں سے کی جارہی ہے۔ حکومت بجٹ میں زراعت کے شعبے کو جدت اپنانے کے لیے مراعات دے تو پاکستان ملکی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ اربوں ڈالر کی زرعی مصنوعات برآ٘مد بھی کرسکتا ہے۔