فیس بک کی بندش، مارک زکربرگ کوچند گھنٹوں میں 7 ارب ڈالرکا نقصان

میڈیا کمپنی بلوم برگ کے مطابق گزشتہ روزتقریبا 6 گھنٹے کے لیے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک، اورسوشل میڈیا ایپلیکیشن انسٹاگرام اورواٹس ایپ تکنیکی خرابی کے باعث بند ہوگئ تھیں جس کے باعث فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے اسٹاکس 4.9 فیصد گرگئے اورکمپنی کو7 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔ اس نقصان کی بڑی وجہ فیس بک کی بندش کے باعث صارفین کا دیگرایپلیکیشن اورویب سائٹس تک رسائی کرنا بھی شامل ہے۔

فیس بک کے حصص میں کمی گزشتہ سال نومبرکے بعد ایک دن میں سب سے بڑی کمی ہے تاہم سروسز بحال ہونے کے بعد اس میں 0.5 فیصد بہتری آگئی ہے۔
فیس بک کی اس طرزکی سروس معطلی اپنی نوعیت کی سب سے طویل بندش ہے جسے آج تک ویب مانیٹرنگ گروپ ڈاؤن ڈیٹکٹر نے ٹریک نہیں کیا۔ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے بندش کا الزام کنفیگریشن میں غلط تبدیلی پرلگایا ہے جس کے باعث فنی خرابی پیدا ہوئی اورمختلف ممالک سے ساڑھے تین ارب صارفین واٹس ایپ، انسٹاگرام اورفیس بک استعمال کرنے سے محروم ہوگئے۔
کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے واضع نہیں کیا گیا کہ کنفیگریشن پہلے سے طے شدہ تھی یا کس کی جانب سے کی گئی۔
فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی افسرمائیک شروفر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سروسز کی 100 فیصد بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، ہم پر انحصار کرنے والے تما چھوٹے اور بڑے کاروبار، خاندانوں اورمنسلک افراد سے میں معذرت خواہ ہوں۔

دوسری جانب سکیورٹی ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کمپنی میں کام کرنے والے کسی شخص سے نادانستہ طورپرکوئی غلطی ہو گئی ہوتاہم تاحال کمپنی انتظایہ کی جانب سے کوئی واضح موقف نہیں اپنایا گیا ہے۔

دیگرماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک ویب نظام میں تبدیلی کی وجہ سے مسئلہ پید اہوا۔ فیس بک نے بارڈر گیٹ وے پر وٹوکول میں کئی تبدیلیاں کی تھیں جس کی وجہ سے فیس بک انٹرنیٹ سے غائب ہوگئی۔