لازمی ڈیجیٹل ادائیگی کی مخالفت کرتے ہیں، ایف پی سی سی آئی

کراچی / لاہور: وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے کہا ہے کہ کاروباری، صنعتی اور تجارتی برادری متفقہ طور پر لازمی ڈیجیٹل اور آن لائن ادائیگیوں کے نفاذ کی مخالفت کرتی ہے۔

میاں ناصر حیات مگوں نے کہا انہوں نے کبھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نفاذ کی حمایت نہیں کی۔ صرف اس کے نفاذ میں40 دن کے تعطل کو سراہا تھا تاکہ تاجر برادری اور حکومت مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے نفاذ کے وقت ایف پی سی سی آئی نے متعلقہ حکام کے سامنے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کی تھی کیونکہ ملکی معیشت پوسٹ ڈیٹڈ چیک اور کریڈٹ پر ہونے والی فروخت پر چلتی ہے۔ عام طور پر یہ کریڈیٹ 2سے3 ماہ کیلئے ہوتا ہے اورکاروباری ادارے کسی بھی طرح نئے آرڈیننس کی اس شرط کی تعمیل نہیں کر سکتے۔ کاروباری اداروں کے مابین ٹرسٹ کی بنیاد پر جزوی یا تاخیر سے ادائیگی ایک معمول کی بات ہے۔

یہ حکومت کی عدم تیاری کا ثبوت ہے کہ نیا آرڈیننس نافذ ہونے کے صرف 2 دن بعد حکومت کو لازمی ڈیجیٹل ادائیگی کی شرط کو 40 دن کیلیے معطل کرنے پر مجبور ہو نا پڑاکیونکہ کاروباری لین دین صرف 2 دن میں منجمد ہو گیا تھا۔ اس قسم کے سخت اور غیرمنطقی قانون کے نتیجے میں ایس ایم ایز کی جانب سے عدم تعمیل اور سڑکوں پر احتجاج کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ نئے آرڈیننس کے تحت اڑھائی لاکھ سے زائد کاروباری لین دین کو آن لائن اور ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔FPCCI