تین برسوں میں پاکستان کے بیرونی قرضوں اور واجبات میں 26ارب ڈالر سے زائد اضافہ

اسلام آباد :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اور واجبات 122 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس میر خان محمد جمالی کی زیر صدارت ہوا، جس دوران اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2018 سے اب تک 3 برسوں میں 26 ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہوا۔

بریفنگ کے مطابق ، جون 2018 میں پاکستان کا بیرونی قرضہ اور واجبات 96 ارب 6 کروڑ ڈالر ، جون 2019 میں 106 ارب 25 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ، جون 2020 میں 112 ارب 91 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ، جون 2021 میں 121 ارب 39کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا جو 31 جولائی 2021 میں 122 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

بتایا گیا کہ پیرس کلب نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث 3 مراحل میں پاکستان کے 3 ارب 78 کروڑ 50 لاکھ ڈالر قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دیا ہے، ان میں 2 ارب 97 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی پرنسپل رقم اور 81 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سود کی رقم ہے۔

کمیٹی نے آئندہ ان کیمرہ اجلاس میں قرضوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں جبکہ وزارت خزانہ کو بھی کمیٹی میں بلالیا۔
اقتصادی امور ڈویژن کے ایڈیشنل سکریڑی نے بتایا کہ پیرس کلب نے پہلے مرحلے میں 4سال ، دوسرے مرحلے میں 6 سال اور تیسرے مرحلے میں بھی 6سال کا ریلیف دیا۔

اس دوران رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے پیرس کلب کی جانب سے قرضوں پر جوریلیف دیا گیا اس وقت ڈالر آج سے 50 روپے سستا تھا ہمیں نئے ایکسچینج ریٹ کے مطابق ادائیگی کرنی ہوگی۔