بڑھتے قرض کے باجود حکومت کا ٹیکس رعایتیں دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایک فنانشل سیکٹر فرم کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دینے اور اسٹیل اور موبائل فون ساز سیکٹرز کے لیے ٹیکس واجبات میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ Third Tax Laws Amendment Ordinance 2021 کے تحت کچھ شعبوں کے لیے ٹیکس ریلیف تجویز کیا گیا ہے ۔ یہ ترمیمی آرڈیننس منظوری کے مرحلے میں ہے۔ اس آرڈیننس مجوزہ مقصد نادرا کو ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا تک رسائی دینا تھا مگر اب اس ترمیمی آرڈیننس کو دوسرے پالیسی اہداف کے حصول کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تجویز دی ہے کہ پاکستان مورگیج ری فنانس کمپنی لمیٹڈ کی مجموعی آمدن کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ اگر کابینہ یہ تجویز منظور کرلیتی ہے تو پھر یہ رواں سال کے آغاز میں حکومت کی جانب سے متعارف کردہ کارپوریٹ انکم ٹیکس ریفارمز کے خلاف ہوگا۔ پاکستان مورگیج ری فنانس کمپنی لمیٹڈ ان اداروں میں شامل تھی جنھیں انکم ٹیکس سے حاصل استثنیٰ ّآئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ختم کردیا گیا تھا۔ جولائی کے اختتام پر مرکزی حکومت کے قرضے 399کھرب روپے تک پہنچ چکے تھے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے اسٹیل کے ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز اور سب ڈیلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے محض 0.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی اسٹیل سیکٹر کے بزنس چین کے لیے انکم ٹیکس کی شرح بھی 1.25 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح موبائل فون مینوفیکچررز کے لیے 1.25 فیصد انکم ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔