تعمیراتی شعبے کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری کی ضرورت

کراچی: حکومت نے اگرچہ تعمیراتی شعبے کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے مگر اسے ملک میں تعمیرات کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری اگرچہ بہتر ہوئی تاہم غیرملکی سرمایہ کار تعمیراتی صنعت میں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں جبکہ ملک میں رہائشی یونٹس کی طلب ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی) کے سابق صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ پاکستان کو وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے گراؤنڈ ورک کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مقامی حالات کو غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنائے۔ توازن ادائیگی کے مسئلے کے پیش نظر انھوں نے کہا کہ ملک کو زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری درکار ہے، کیوں کہ برآمدات میں برائے نام اضافہ اور تارکین وطن کی ترسیلات مختصر مدتی مظہر ہیں۔

میاں انجم نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی برسوں سے بیرونی سرمایہ کاری زوال کا شکار ہے۔ رواں مالی سال میں جولائی تا فروری بیرون سرمایہ کاری 1.3 ارب ڈالر رہی۔ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں سرمایہ کاری 1.85 ارب ڈالر تھی۔ سابق صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ کورونا وبا نے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کردیا ہے جس کے بیرونی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

میاں انجم نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہائشی یونٹس کی سالانہ طلب 7لاکھ ہے جب کہ ساڑھے 4 لاکھ یونٹس تعمیر کرنے کی صلاحیت ہے۔