پاکستانی آم کورونا کیخلاف مدافعت بڑھانے میں معاون ثابت

پاکستان میں پیدا ہونے والے خوش ذائقہ اور رسیلے آم دنیا کے 40 ملکوں کو برآمد (ایکسپورٹ) کیے جارہے ہیں جب کہ غذائیت ، توانائی اور وٹامن سے بھرپور پاکستانی آم کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سپاہی کا کردار ادا کرتے ہوئے انسانی جسم میں قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

کورونا کی عالمی وبا کے دوران قوت مدافعت بڑھانے والی غذاؤں بالخصوص پھلوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی آم قوت مدافعت بڑھانے کا اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کا کہنا ہے کہ پاکستانی آم کی مہک دنیا کے 40 ملکوں تک پھیل رہی ہے اس سال پاکستان سے 80 ہزار ٹن آم برآمد ہوگا جو کورونا کی وبا کے دوران قوت مدافعت بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے۔

وحید ا حمد کے مطابق دنیا میں کورونا کی وبا کے دوران قوت مدافعت بڑھانے کے لحاظ سے پاکستانی آم کو فرنٹ لائن ورکر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا پاکستان دنیا میں آم پیدا کرنے والا چھٹا اور ایکسپورٹ کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے پاکستان میں 100اقسام کے 18 لاکھ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں جن میں زیادہ مقبول آموں میں لنگڑا، فجری، سندھڑی، چونسا، دیسی، رسولی، سنہرا، انوررٹول، طوطاپری، لال بادشاہ الفانسو، الماس، نیلم، گلاب خاص جیسی اقسام شامل ہیں۔

ملک میں پیدا ہونے والے آم غذائیت کے حصول کے ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہیں، خام آم اور آم سے تیار ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی سالانہ تجارت کا حجم 100ارب روپے لگایا گیا ہے ملک بھر میں آم کی پیکنگ کے جدید 70پیک ہاؤسز اور آم کو پھلوں کی مکھیوں سے پاک کرنے کے لیے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے 40پلانٹس کام کررہے ہیں جن سے براہ راست 2لاکھ افراد کو روزگار مل رہا ہے۔

امریکا دنیا میں آم درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے دیگر اہم ملکوں میں ترتیب کے لحاظ سے نیدر لینڈ، متحدہ عرب امارات، ویتنام، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ملائیشیا، سعودی عرب اور اسپین شامل ہیں۔ پاکستانی آم کی بڑی منڈیوں میں متحدہ عرب امارات سرفہرست ہے دیگر ملکوں میں ایران، عمان، افغانستان، برطانیہ، سعودی عرب، قطر، جرمنی، بحرین شامل ہیں۔ آم کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کاحصہ5فیصد کے لگ بھگ ہے۔

آم میں وٹامن اے،سی اوربی سکس موجود ہوتا ہے، ماہرین

غذائی ماہرین کے مطابق وٹامن اے، وٹامن سی اور وٹامن بی سکس سے بھرپور آم غذائیت کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں آم میں موجود زنک اور کیلشیم انسانی جسم میں قوت مدافعت بڑھاتے ہیں کورونا کی وبا کے دوران آم کے معتدل اور روزانہ استعمال سے کورونا وائرس سے بچاؤ میں نمایاں مدد مل سکتی ہے پھلوں کا بادشاہ آم قدرت کی طرف سے ایک ایسا تحفہ ہے جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ اس میں وٹامن سی سمیت دیگر قدرتی اجزا شامل ہیں جو جسم میں قوت مدافعت کو مضبوط کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

آم میں قدرت نے ملٹی پلز وٹامن اور منرل شامل کیے ہیں جس میں وٹامن سی، وٹامن اے، بی6، آئرن،کیلشیم، زنک اور وٹامن ای بھی شامل ہے یہ پھل بہت ہی کم کلوریز والا پھل ہے جس کے کھانے سے وزن نہیں بڑھتا، آم میں ہائی فائیبر بھی شامل ہیں جو قبض توڑتا ہے اور قبض نہیں ہونے دیتا انسانی جسم میں قوت مدافعت میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے آج کل کووڈ19 کی وجہ سے عوام کی اکثریت وٹامن سی کی ادویات استعمال کررہی ہے۔

فیملی فزیشن ڈاکٹر انور علی خواجہ کا کہنا تھا کہ وٹامن سی لینے کے لیے آم بہترین اور انتہائی مفید پھل ہے یومیہ 330 گرام آم کھانے سے کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوتا،آم کھانے کا درست وقت صبح ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے درمیان اور دوپہر اور شام کی چائے کے وقفے کے درمیان آم کھانا انتہائی مفید ہوتا ہے ویسے تو آم کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے آم میں وٹامن اے کی بہت زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے جوکم بینائی والے افراد کے لیے انتہائی مفید ہے یعنی آم کھانے سے بینائی بھی محفوظ رہتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آم میں وٹامن سی کے ساتھ زنک اور کیلشیم کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جس کے کھانے سے قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہی آنتوں کے انفیکشن کو کم کرنے میں معاونت کرتا ہے جبکہ اس پھل کے استعمال سے جگر کے افعال بھی درست کام کرتے ہیں۔

سندھ حکومت نے آم کے باغات کے حوالے سے ایس او پیز جاری کیے

آم کے سیزن میں باغات میں بھی اضافی مزدوروں سے کام لیا جاتا ہے، سندھ میں آم کے باغات سے آم توڑنے کے لیے جنوبی پنجاب کے علاقوں سے مزدور منگوائے جاتے ہیں جو آم کے باغات میں ہی رہتے ہوئے صبح سویرے کام شروع کردیتے ہیں اس سال کورونا کی وبا کے دوران سندھ حکومت نے آم کے باغات سے آم کی ترسیل کے لیے خصوصی ایس او پیز جاری کیے ہیں۔

آم دنیامیں پاکستانی سفارتکاربن گئے، یورپ اور امریکا میں آم شو نہیں ہوسکے

پاکستان کے خوش ذائقہ اور فرحت بخش آم پاکستان کے لیے سفارتکاری کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں، ملک کی اہم سرکاری شخصیات کی جانب سے پاکستانی آم دوست ملکوں کے سربراہان اور اہم شخصیات کو بطور تحفہ ارسال کیے جاتے ہیں۔

صدر مملکت عارف علوی نے گزشتہ ماہ ایوان صدر میں آم کی صنعت سے متعلق خصوصی اجلاس میں دوست ممالک کے ساتھ پاکستانی آم کی ممکنہ بڑی منڈیوں کے سربراہان مملکت کو سرکاری طور پر آم بطور تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپ، آسٹریلیا اور دیگر ملکوں میں تعینات پاکستانی سفارتکار ہر سال پاکستانی سفارتخانہ میں آم کی دعوت منعقد کرتے ہیں جہاں پاکستان کے خوش ذائقہ آم اور آم سے تیار مشروبات سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے اس سال کورونا کی وبا کی وجہ سے مینگو شو منعقد نہیں ہوسکے تاہم اس کے بجائے سرکاری تحفہ کے طور پر آم بھجوائے جائیں گے۔

لاک ڈاؤن سے آم کی فروخت40فیصدکم رہی

کورونا کی وبا کے باعث ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہونے شادی بیاہ کی تقاریب پر پابندی اور سماجی میل جول نہ ہونے کی وجہ سے آم کی ملکی تجارت بھی متاثر ہورہی ہے۔

کراچی سبزی منڈی کے تاجروں کے مطابق رواں سال آم کی فروخت میں 40 فیصد تک کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں آم گزشتہ سال کے مقابلے میں 20سے 30فیصد کم قیمت پر فروخت ہورہا ہے، شہر میں جگہ جگہ پھلوں کے ٹھیلوں پر آم کی بھرمار ہے، آم کا سیزن سبزی منڈی کے چھوٹے تاجروں اور مزدوروں کے لیے روزگار کا بہترین ذریعہ ہے۔