کورونا وائرس کو ختم نہیں کیا جا سکتا: برطانوی سائنسدان

دنیا بھر میں کورونا وائرس نے اپنے پنجے اس وقت گاڑے ہوئے ہیں اس مہلک وباء کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 4.8 ملین سے زائد لوگ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، دنیا بھر میں ویکسین بنانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں، تاہم اس دوران برطانوی دارالامرا کو بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یونیورسٹی آف گلاسگو کے وائرل جینومکس اینڈ بائیوانفارمیٹکس کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر رابرٹسن نے دارالامرا کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کو بتایا کہ کووڈ 19 ایک بہت کامیاب وائرس ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ اتنا زیادہ منتقل ہونے والا ہے، یہ اتنا کامیاب ہے، ہم اتنے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کہ حقیقت میں اس کے متعلق پریشان ہونا کہ مزید خراب ہو جائے گا اسکے متعلق گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت مریضوں کی تعداد کے حوالے اس سے زیادہ برا نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کورونا وائرس کا موازنہ ایبولا سے کیا، جس نے بہت سے متاثرین کو ہلاک کیا تھا لیکن اسے کنٹرول کرنا آسان تھا کیونکہ لوگوں نے اسے پھیلانا بند کر دیا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر رابرٹسن نے کہا کہ وائرس اتنے زیادہ لوگوں کو بیماری کی علامات کے بغیر یا بہت ہی کم علامات کے ساتھ انفیکٹ کر رہا کہ یہ تقریباً بے قابو ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہمیں بالکل واضح طور پر تیار ہونا چاہئے کہ ہم وائرس کو ختم نہیں کر سکتے۔ انسانی آبادی میں رہے گا اور کئی سالوں کے بعد ایک عام وائرس بن جائے گا۔ ایسی بھی تنبیہہ کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو کورونا وائرس ہوا ہے ان میں شاید اس کے خلاف مدافعت نہ پیدا ہو سکے۔

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر جان ایڈمنڈز کا کہنا ہے کہ سارس سے بچ جانے والے متاثرین سے ملنے والی شہادتوں سے پتہ چلا تھا کہ وقت کے ساتھ مدافعت پیدا کرنے والی اینٹی باڈیز ختم ہو گئی تھیں۔ سو یہ ہمارے لیے ایک ممکنہ بری خبر ہے کہ مدافعت وائرس کے خلاف زیادہ عرصے تک نہیں رہے گی۔