ساﺅتھ ایشین گیمز میں میڈلز جیتنے والی قومی جوڈو اور کراٹے ٹیموں کے ممبران میں چیک تقسیم

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ساﺅتھ ایشین گیمز میں میڈلز جیتنے والی قومی جوڈو اور کراٹے ٹیموں کے ممبران میں چیک تقسیم کیے۔

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پاکستان جوڈو اور کراٹے ٹیموں کے ممبران میں چیک تقسیم کیے جنہوں نے نیپال میں یکم سے دس دسمبر 2019ء تک منعقدہ 13 ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں تمغے جیتے تھے۔

جوڈو ٹیم نے 2 طلائی، 3 چاندی اور 4 کانسی کے تمغے جیتے۔ جوڈو کے کھلاڑیوں میں حامد علی نے سونے اور چاندی کے تمغے (مینز +100 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ)، قیصر خان نے 2 چاندی کے تمغے (مینز 90 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ) میں، کرامت بٹ نے 2 چاندی تمغے (مینز 81 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ)، محمد حسنین نے کانسی اور سلور میڈلز (مینز 66 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ)، ندیم اکرم نے چاندی (مکسڈ ٹیم ایونٹ)، حمیرا عاشق نے کانسی اور چاندی (خواتین 48) کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ)، بنیش خان نے کانسی اور چاندی (خواتین +78 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ)، شاہ حسین شاہ نے گولڈ اور سلور میڈلز (مینز 100 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ)، آمنہ طیاڈا نے کانسی اور چاندی (خواتین کے 57 کلوگرام اور مکسڈ ٹیم ایونٹ) اور عاصمہ رانی نے چاندی (مکسڈ ٹیم ایونٹ) میں جیتا۔

اسی طرح کراٹے کے کھلاڑیوں نے 6 طلائی، 8 چاندی اور 5 کانسی کے تمغے جیتے۔ کراٹے کے جیتنے کا آغاز باز محمد نے چاندی اور گولڈ میڈلز سے کیا انہوں نے(مینز84 کلوگرام اور مینز ٹیم کومیت) مراد خان نے 55کلوگرام مینز اور ٹیم ایونٹ میں طلائی اور کانسی کے تمغے ظفر اقبال نے مینز -60 کلوگرام میں چاندی، سعدی غلام عباس نے مینز -75 کلوگرام اور مینز ٹیم ایونٹ میں دو گولڈ میڈل، نصیر احمد نے گولڈ ، سلور اور کانسی کے میڈلز (مینز ٹیم مینز -67 کلوگرام اور مردوں کی ٹیم ایونٹ میں، رحمت اللہ نے مینز ٹیم ایونٹ میں طلائی تمغہ، شہباز خان نے مینز ٹیم میں طلائی ، محمد اویس نے مینز -84 کلوگرام اور مینز ٹیم میں دو طلائی ، کلثوم نےویمنز ٹیم اور ویمنز -68 کلوگرام میں طلائی تمغہ اور چاندی کے تمغے، ثنا کوثر نے ویمنز ٹیم اور ویمنز 55 کلوگرام میں گولڈ اور چاندی، نرگس نے ویمنز ٹیم ویمنز ٹیم کاتا اور خواتین کی +68 کلوگرام میں طلائی اور دو چاندی کے تمغے۔

صبیرا گل نے طلائی اور کانسی کے تمغے خواتین کی ٹیم ایونٹ اور خواتین کے 50 کلوگرام میں طلائی اور کانسی کے تمغے، نعمان احمد نے مردوں کے 50 کلوگرام اور مردوں کے کاتا مقابلوں میں گولڈ اور کانسی کے تمغے ، شاہدہ نے گولڈ اینڈ سلور (ویمنز انفرادی اور ویمنز ٹیم ایونٹ میں طلائی اور چاندی کے تمغے، نعمت اللہ نے مینز انفرادی اور مینز ٹیم ایونٹ میں چاندی اور کانسی کے تمغے، ناز گل نے سلور اینڈ برونز میڈلز خواتین کی ٹیم اور ویمنز 61 کلوگرام کے مقابلوں میں چاندی اور کانسی کے تمغے جبکہ اقرا انور نے کانسی کا تمغہ خواتین کے 45 کلوگرام مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا۔

منظور شدہ کیش ایوارڈ پالیسی کے مطابق طلائی تمغہ جیتنے والے فی کس کھلاڑی کو دس لاکھ روپے ، چاندی کے تمغہ جیتنے والوں کو 5لاکھ روپے جبکہ کانسی کے تمغہ جیتنے والوں کو 2لاکھ 50ہزارروپے کے چیک ملے۔6. 500ملین اور 18.250 ملین روپے مجموعی طور پر جوڈو اور کراٹے کے کھلاڑیوں میں بلترتیب تقسیم کئے گئے۔

اس موقع پر مسعود احمد نائب صدر پاکستان جوڈو فیڈریشن اور ڈپٹی ڈی جی پی ایس بی محمد اعظم ڈار بھی موجود تھے۔اس موقع وفاقی وزیر بین الصوبائی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جیتنے والے کھلاڑیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کھلاڑیوں کے والدین کی بھی تعریف کی جنہوں نے ملک کا نام روشن کرنے کیلئے انہیں کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔

انہوں نے خواتین جیتنے والی کھلاڑیوں کی خصوصی تعریف کی جنہوں نے محدود وسائل اور معاشرتی دباؤ کے باوجود ملک کے لئے تمغے جیتے۔ صدر پی ایس بی نے کھلاڑیوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھیں اور باقاعدہ پریکٹس کے ذریعے اپنے آپ کو فٹ رکھیں اپنے جونیئرز اور اپنے علاقے کے نوجوانوں کو بھی تربیت دے۔ کوچز ، پی ایس بی بھی اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کہ عالمی وباءکورونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے کھلاڑیوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے جلد صوبوں، آزاد جموں و کشمیر کے وزیر کھیلوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

اس موقع پر پاکستان جوڈو فیڈریشن کے نائب صدرمسعود احمد نے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کھلاڑی وقت پر نقد انعامی رقم کی شکل میں ان کا انعام وصول کررہے ہیں جس سے یقینا ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔

اس سے یقینی طور پر کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد ہوگی۔ تمغہ جیتنے والوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت کے علاوہ صوبوں کو بھی باصلاحیت کھلاڑیوں کی مدد کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ نوجوان، ملک کا ایک بڑا حصہ ، صحت مند کھیلوں کی سرگرمیوں میں اپنی توانائیاں بروئے کار لاسکیں اور اس سے نوجوانوں کے لئے ساز گارماحول ماحول بھی بنایا جاسکے۔