حلقہ احباب میں کون سے احباب کا حلقہ شامل ہیں؟

ایس کے نیازی کئی جہتوں اور کئی محاذوںپر کام کرنے والی شخصیت ہیں، وہ ایک بڑے میڈیا ہائوس کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے علاوہ سینئر صحافی ، کالم نگار، تجزیہ کاراور اینکر ہیں، وہ ٹی وی کے معروف پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور آنے والے دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں ایسی پیش گوئی بھی کر جاتے ہیںجو سچ ثابت ہوتی ہے ، یعنی بروقت ، برملا اور برحق تجزیہ اور حالات کا درست ادراک ان کی پہچان ہے ۔

سردار خان نیازی کی کالموں پر مشتمل کتاب ’’ حلقہ احباب ‘‘ چند دن قبل منظر عام پر آگئی اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، کتاب میں ملک بھر کے تمام اہم شخصیات کی رائے شامل ہے ، ان اہم شخصیات کی رائے میں سے کتاب کے اندر کے ٹائٹل کیلئے جن شخصیات کی رائے کا انتخاب شامل کیا گیا ہے ہے ان میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان، جنرل (ر)اسلم بیگ ، سید خورشید احمد شاہ، عارف نظامی، ریٹائرڈ میجر جنرل اعجاز احمد پراچہ، محمد ظفر الحق ، جسٹس (ر)ثاقب نثار اور چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ شامل ہیں، جبکہ کتاب کے اندر کے صفحات پر رائے دینے والی شخصیات میں سابق صدر پرویز مشرف ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق صدر میر ظفر اللہ خان جمالی ، مولانا فضل الرحمان ، سراج الحق ، جنرل (ر)حمید گل ، ایس ایم ظفر ، بیرسٹر علی ظفر ، جسٹس(ر)وجیہہ الدین ، عاصمہ جہانگیر (مرحومہ) مشاہد حسین سید ، مجید نظامی ، حمید ہارون ، زاہد ملک ، مریم اورنگزیب ، رانا ثناء اللہ ، کیپٹن (ر)صفدر ، آمنہ مسعود جنجوعہ ، ڈاکٹر انعام الحق ، عرفان صدیقی ، حامد میر اور سلیم صافی شامل ہیں، جبکہ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا خصوصی پیغام بھی شامل ِکتاب ہے ۔

کتاب ’’ حلقہ احباب ‘‘ کی خاص بات یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان اس میں بطور کالم نگار شامل ہیں، اور ان کے والد اکرام اللہ نیازی کا ایک انٹرویو بھی شامل ہے جو انہوں نے شاہد ہی کسی اور شخصیت کو دیا ہو۔ مجھے کتاب میں وزیراعظم عمران خان اور ایس کے نیازی کے کالموں میں سے ’’کلیدی جملے‘‘ لکھنے کے اعزاز کے علاوہ بیک ٹائٹل پر اشعار لکھنے کا اعزاز بھی ملا جو میرے لیے یادگار ہے۔کسی سے بھی نہیں ڈرتا ہے سچی بات کہنے میں ذرا بھی دیر کب کرتا ہے اچھی بات کہنے میںصحافت کا ستوں ایسا اُصولوں پر کھڑا ہے جو ہر اک مظلوم کی خاطر اکیلا ہی لڑا ہے جوکئی افکار ایسے ہیں کہ جو اقوال جیسے ہیںگزرتی ہے جو دنیا پر یہ اُس احوال جیسے ہیںقبیلہ بھی نیازی ہے کہ جسکی شان اپنی ہےزمانے بھر میں بھی جس کی الگ پہچان اپنی ہےستارے جگمگاتے ہیں ہر اک ہی باب کے اندرکچھ ایسے لوگ شامل حلقہ احباب کے اندر ایس کے نیازی کے کالموں میں سے جو پہلا جملہ میں نے منتخب کیا تھا وہ تھا کہ ‘‘ جہاں خوف ہوتا ہے وہاں سرمایہ نہیں رہتا ‘‘موجودہ معاشی صورتحال میں اس جملے کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ایس کے نیازی کے کالموں میں سے دیگر منتخب جملے پیش خدمت ہیں ۔
٭قوم باہمی اتفاق واتحاد کوپروان چڑھا کرسیسہ پلائی دیوار کاتاثر دنیا کے سامنے پیش کرے۔(79)
٭اقوام متحدہ امریکہ کے زیراثر ہے وہی کرتاہے جو امریکہ چاہتاہے۔(126)
٭ہم بحیثیت قوم ناکامی، سستی یاغفلت کے متحمل نہیں ہوسکتے۔(84)
٭معاشرے میں ظلم بڑھ جائے توعدالت کی چوکھٹ محض زنجیرعدل نہیں بلکہ دیوار گریہ بن جاتی ہے۔(103)
٭مسافت اگراہتمام اوراحتیاط سے طے کی جائے تو منزل ،منزل مراد بن جاتی ہے۔(105)
٭جولڑکھڑاتا نہیں ہے وہ پورے قد کے ساتھ کھڑا رہتاہے۔(105)
٭اقدار کی تمنا میں متانت اورشرافت کونہیں چھوڑناچاہیے۔(108)
٭عوام کے ووٹوں سے مسندِ اقتدار پرآنے والا حکمران قومی سوچ کاآئینہ دار ہوناچاہیے۔(111)
٭ڈکٹیٹر جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ کسی قسم کاسمجھوتہ کرنے پر تیارنہیں ہوتا اوراپنے فیصلے پرعملدرآمد کے لئے پوری عدالت کومعطل کرنے سے گریزنہیں کرتا۔ (110)
٭گریباں چاک کرنے کی سیاست میں خسارہ ہی خسارہ ہوتاہے۔(111)
٭اختلافات رائے کامطلب دشمنی نہیں ہوتی۔ (165)
٭اگرہمارے پاس ایٹمی قوت 1970ء میں ہوتی تو بھارت ہمیں دولخت کرنے کی ہمت نہ کرتا۔(148)
٭ہماری ترقی کی سوئی جہاں اٹکی ہوئی ہے اس کانام کرپشن ہے۔(146)
٭بدقسمتی سے جس ادارے میں کرپشن نہیں ہوتی اس سے کرپٹ کرنے کے لئے کرپشن کے ماہر کوسربراہ بنانے سے وہ ادارہ کرپٹ ہوجاتاہے۔(146)
٭حکومت اورعدلیہ کے درمیان تضادات بڑھ جانا حالات کی خرابی کی طرف لے جاتاہے۔(180)
٭زلزلہ، سیلاب یاکسی قدرتی آفت کے حالات میں صرف تصویریں بنوانے سے اُس عفریت پرقابونہیں پایاجاسکتا۔(191)
٭دہشتگرد اور خودکش دھماکوں کاایک سبب غربت بھی ہے۔(156)
٭ملک میں جمہوری تماشا ہو یاآمرانہ نظام، صدارتی طرز حکومت ہو، پارلیمانی غریب آدمی کوتو روٹی سے سروکار ہوتاہے۔(156)
٭کالابالاغ ڈیم کو سیاسی اناکامسئلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ بقاء ،قومی سلامتی اورعوامی مفاد کو دیکھنا چاہیے۔ (156)
٭زندہ قومیں سازشوں کاادراک رکھتی ہیں اورسازشوں کوناکام بناکر سرخرو ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔(129)
٭پاکستان کے چالیس امیرترین خاندان ملکی معیشت کوسہارا دے سکتے ہیں۔(130)
٭ملکی دفاع اورسلامتی کے حوالے سے مشترکہ قرارداد منظور کروانے کے بعد حکومت اوراپوزیشن معاشی بحران پرمشترکہ قرارداد لانے کافیصلہ کرے۔(130)
٭ملک میں جتنے الیکشن ہوں گے اتنا ہی فائدہ ہے کہ اس سے جمہوریت ریفائن ہوکرآئے گی۔(137)
٭افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف سازشوں کی آماجگاہ ہیں۔(140)
٭بعض اندرونی اور بیرونی ہاتھ قوم کومتحد ہونانہیں دیکھ سکتے۔(171)
٭فوج حکم کی پابند ہوتی ہے اصل ذمہ داری پالیسی سازوں کی ہے کہ وہ ہرقسم کے حالات میں ملک کے مفادکومدنظر رکھیں۔(142)
٭عوام اورفوج کی ہم آہنگی کے لئے سود مند ہوتی ہے۔(145)
٭عالمی سطح پرامت مسلمہ کے خلاف سازشوں پرتمام اسلامی ممالک کومل بیٹھ کرلائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ (163)
٭گوادر بندرگاہ کی تعمیر بلوچستان کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے مگر بعض غیرملکی طاقتوں کی مداخلت آتش فشاں کاکام کرتی ہے۔(160)
٭ہرآنے والی حکومت سابق حکومتوں کے نظام کی خرابی کی ذمہ دارٹھہراتی ہے۔(221)
٭ملک میں بہت کم سیاستدان ایسے ہیں جنہوں نے قرضوں کی گنگا میں ہاتھ نہ دھوئے ہوں۔(222)
٭ہمارے نظام اورسسٹم میں نقص کی وجہ سے غیرملکی طاقتوں کا عمل دخل موجود ہے۔(223)
٭قومی دولت کی لوٹ مار میں سیاستدان اوربیوروکریسی کے علاو کچھ دیگرطبقے بھی ننگے ہیں۔ (114)
٭کرپشن سے آلودہ ماحول میں جب تک بے رحم احتساب کاڈنڈا نہیں چلے گااصلاح احوال ممکن نہیں ہوگا۔(115)
٭ اپنے ماتھے پر شرافت کاجھومرسجانے والوں سے عام سوسائٹی کاکوئی فرد یہ نہیں پوچھ سکتا کہ جناب آپ کی اس ٹھاٹھ باٹھ کاراز کیاہے۔(115)
٭ہمیں قومی معاملات میں مفاہمت، باہمی رواداری، محبت اوراخوت کے پرچم بلندکرناہوں گے۔(184)
٭اگرہمارے ہاں تمام شعبہ ہائے زندگی میں احتساب کارواج ہوتاتو ہم معاشرتی بگاڑ کے موجودہ ماحول سے دوچار نہ ہوتے۔(186)
٭ہمارے ہاں مادہ پرستی کے بت کی ایسی پوجا کی جاتی ہے کہ سچائی اورحقیقت کاچہرہ دھندلانے لگتاہے۔(186)
٭جمہوریت کانام ہی اختلافی مسائل کوباہمی سے حل کرنے اور باہمی رواداری کاہے۔(116)
٭قوموں کی زندگی میں بعض فیصلے صحیح ہوتے اوربعض غلط ہوتے ہیں اس کامطلب ہرگز یہ نہیں کہ سب کچھ لپیٹ دیاجائے۔(116)
٭عدالت کے فیصلوں پرسرتسلیم خم کرنا بے دار مغز، باشعور اورزندہ قوموں کا ہی شیوہ ہوتاہے۔(117)
٭سیاست توڑ پھوڑ ،زندہ باد مردہ باز کے فلک شگاف نعروں کانام نہیں بلکہ سیاست جمہوری انداز میں مثبت سوچوں کوپروان چڑھانے کانام ہے۔(117)
٭ہمارا انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کاسسٹم نقائص سے بھرپور ہے راتوں رات کروڑوں اربوں کی جائیداد کے مالکان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ یہ گوشوارے درست جمع کروائے ہیں؟(118)
٭معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ کووسیع کیاجائے اورصحافیوں ،ججوں، جرنیلوں اور وکیلوں کوبھی اس کے دائرہ میں لایاجائے۔(119)
٭معیشت میں بہتری کے لئے محصولات کے نظام کوازسرنو منظم کرنے اورجدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔(119)
٭پاکستان کوویلفیئرکی مد میں دی جانے والی امداد بھی گھپلوں سے محفوظ نہیں رہتی اس لئے کئی ممالک امداد کے لئے این جی اوپر بھروسہ کرنے لگے ہیں ۔ (206)
٭مسلمانوں نے جب بھی قرآن پاک سے رشتہ جوڑ کر راستہ تلاش کیا وہ معزز وسربلند اورخوشحال ہوئے۔ (196)
٭آئی ایس آئی اور پاکستان لازم وملزوم ہیں پاکستانی قوم آئی ایس آئی کومضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔(193)
٭حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ وہ بجلی کی پیداوار میں جتنا اضافہ کرلیں جب تک کرپشن پرقابونہیں پایاجاتا مثبت تبدیلی کی توقع نہ رکھیں۔ (176)
٭شرپسندوں کاناطقہ بند کرنے میں ہماری قابل فخر عدلیہ اورپاک فوج کاشاندار کردار ہے جبکہ سیاسی حکومتیں بے بس ہوچکی تھیں۔(199)
٭کراچی کے حالات میں ابتری کی ایک وجہ پولیس کے محکمے میں سیاسی مداخلت بھی تھی۔(200)
٭کسی جماعت یاتنظیم کے خلاف کارروائی کی وجہ آئین اورقانون کے خلاف سرگرمیاں ہواکرتی ہیں۔ (200)
٭اداروں کی مصلحت پسندی سے عوام کامورال ڈائون ہوتاہے۔(198)
٭دوسروں کو آئینہ دکھانے والے صحافیوں کا اپنا کردارسوالیہ نشان بن جائے تو یہ افسوس کی بات ہے۔ (177)
٭بعض لوگوں نے صحافت کی آڑ میں لوگوں اوراداروں کوخوفزدہ کررکھاہے۔(178)
٭انصاف اورعدل کے لئے ضروری ہے کہ دیگر طبقوں کے ساتھ ساتھ صحافت میں غیرذمہ دارانہ افراد کا احتساب بھی کیاجائے۔(178)
٭دنیامیں جتنی بھی جنگیں ہوئیں ان میں سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئیں کسی کابھائی، کسی کابیٹا اور کسی کاسہاگ خون میں نہاگیا۔(209)

مگر باقی کی اہم باتوں کو جاننے کیلئے کتاب پڑھنا ضروری ہے ۔اسی طرح وزیراعظم عمران خان کے کالموں میں سے منتخب ’’کلیدی جملوں‘‘ سے جو پہلا جملہ سامنے آیا وہ یوں تھا کہ
’چند سال قبل شکاگو کے میئر کی اس لئے چھٹی کروادی گئی تھی کہ اسے سڑکوں پر جمی برف اٹھوانے میں ایک گھنٹہ تاخیر ہوگئی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کو سوچنا ہوگا کہ دلوں پر جمی مسائل کی برف کو اُٹھوانے میں کتنی دیر ہوچکی ہے؟
وزیراعظم عمران خان چند منتخب جملے پیش کئے جاتے ہیں ۔
برطانیہ کے زمانہ طالب علمی میں میں نے شیکشپئر کو پڑھا تھا مگر فکر اقبال سے محروم رہا (تیسرا کالم صفحہ234)
ہندوستان کی سول سروس میں شامل عام مقامی اور اعلیٰ اور ادنیٰ افسروں نے اپنے آقائوں کا لباس پہنا شروع کر دیا تھا (چوتھا کالم صفحہ 239)
بزدل جب بڑھک مارتا ہے تو اپنے اندر کی کمزوری چھپاتا ہے ۔(چھٹا کالم صفحہ242)
قومی نظام تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ملک بہت جلد استحکام کا شکار ہو جائے گا اور یاد رہے طوائف الموکی ، افراتفری اور انتشار امیر غریب میں کوئی فرق نہیں رکھتے ۔ (ساتواں کالم صفحہ247)
ضروری گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ بجلی ، تیل اور قدرتی گیس کے نرخوں میں ا ضافہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں (آٹھواں کالم 248)
مساویانہ ٹیکس سے مراد ہے کہ ٹیکسوں کا بوجھ ان طبقوں پر پڑے جو انہیں ادا کرنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔(بارہواں کالم 256)
مغرب میں موجود اولڈ ہومز کا تصور ہی روح فرسا ہے (تیسرا کالم صفحہ235)
روحانیت اور مادیت کے درمیان ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے کلچر میں نفسیاتی عوارض کا جنم فطری امر ہے کیونکہ روح اور بدن کے درمیان عدم توازن کا یہی نتیجہ نکلتا ہے (تیسرا کالم صفحہ235)
جس نظام تعلیم کا مارچ 1995 میں اعلان کرنے والا ہوں وہ کینسر ہسپتال سے زیادہ دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔ (تیسرا کالم صفحہ237)
پاکستان کی سرکاری زبان آج انگریزی ہے جسے ہم ماضی کی علامت سمجھ کر صرف نظر کر جاتے ہیں (پانچواں کالم صفحہ240)۔
ریاست مدینہ کے قیام کے بعد مسلمان عظیم ترین تہذیب کی پہچان ہے لیکن کیا یہ غیرملکی سرمایہ کاری کا کمال تھا ؟ کیا یہ بیرونی قرضوں کا اعجاز تھا ؟ یا تیل کے ذخائر نکل آئے تھے ؟ مندرجہ بالا عوامل میں کسی ایک کا بھی وجود نہیں تھا (چھٹا کالم صفحہ240)
کچھ لوگوں کے خیال میں غیر ملکی امداد ایک ایسا بت ہے جس کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے ہمارے حالات سنور جائیں گے ۔ (چھٹا کالم صفحہ242)
عوام کے ملازموں اور عوام کے نمائندوں کوعوام سے دور رکھنے یا ان کے دسترس سے دور رکھنے کا کیا جواز ہے (چھٹا کالم صفحہ243)
آزادی سے لیکر آج تک خود اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی بجائے ہم نے ہمیشہ غیر ملکی امداد اور قرضوں پرانحصار کیا اور نتیجے کے طور پراپنی آزادی اور خود مختاری کوخطرے سے دوچار کیا (چھٹا کالم صفحہ245)
ہم رضا کاروں کی بھرتی کیلئے اشتہار دینگے جو اساتذہ کی تربیت کے لیے وقت نکال سکیں ۔ ہمیں ماہرین تعلیم کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے تدبر اور تفکر یعنی تھنک ٹینک کے شعبے کا حضہ ہوں (ساتواں کالم صفحہ247)
حکومت (نواز) نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اس کے ساتھ بیروزگاری میں اضافہ کی پالیسی پر گامزن ہے (آٹھواں کالم 248)
وزیراعظم عمران خان چاہیں تو روزنامہ پاکستان میں لکھے گئے کالموں میں سے اپنی سوچ کو پڑھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا ہونا چاہیے تھا، کیاہو رہا ہے اور کیا کرنا ہوگا۔

کتاب میں ملک کی تمام نامور شخصایات کی تصاویر کے علاوہ کتاب کے مصنف ایس کے نیازی کی ایسی نادرونایاب تصاویر بھی شامل ہیں جو اُنہوں نے اہم مقاصد کی تکمیل کیلئے کئے تھے۔ ایس کے نیازی نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے۔’’حلقہ احباب‘‘ یہ مجموعہ محض میرے کالموں کی بیاض نہیں ہے ، عمررائیگاں کا ایک گوشوار ہ بھی ہے ۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہو ں تو احساس ہوتا ہے یہ قدرت کی کوئی تقسیم کاری ہی تھی کہ مجھ جیسے آبلہ پا کو صحافت کی وادی پرخار میں دھکیل دیا ۔ بلھے شاہ نے کہا تھا بلھیا کی جانا میں کون؟ ایک عمر دشت صحافت کی آبلہ پائی کے بعد میں بھی سراپا سوال ہوں بلھیا کی جاناں میں کون؟
ایس کے نیازی آپ نہیں جانتے مگر پورا پاکستان جانتا ہے کہ آپ محب وطن اور نظریاتی شخصیت ہیں ایسی شخصیت جس کی اس ملک کو بے حد ضرورت ہے۔

کتاب ملنے کا پتہ
روزنامہ پاکستان اسلام آباد، گلی نمبر 24،پیٹریاٹ بلڈنگ G-8/4
فون نمبر 0512331689

03335523831

آن لائن خریدنے کیلئے لنک

Halq e Ahbab – حلقہ احباب

Read Previous

روز کلینک 01 دسمبر 2019

Read Next

ایم کیوایم نے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر خارجہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *