بنیادی طور پر آٹے کا بحران سندھ میں ہے، پنجاب میں نہیں، فیاض الحسن چوہان

اسلام آباد: فیاض الحسن چوہان اور سمیع اللہ چوہدری نے مشترکہ پریس کارنفرنس کی، جس میں سمیع اللہ چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف وہ واحد پارٹی ہے، جس نے زمیداروں اور کاشتکاروں کے لئے کام کیا

وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ زمیداروں اور کاشتکاروں کو ریلیف دیا گیا ہے، حکومت نے کاشت کارواں کو نمبر دیے کہ اگر اُن کو کوئی تکلیف ہوتو اُس نمبر پر کال کرکے رابطہ کریں، انہوں کہا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو دو نمبری کرتے ہیں، جب نیب چھاپہ مارتی ہے تو گندم کے بجائے ریت ارو بجھری نکلتی ہے، جھوٹے پروپیگنڈوں سے عمران خان ہار ماننے والے نہیں، گندم کا جو اسٹاک پورانی حکومت چھوڑ گئی تھی وہ لوکل مارکیٹ میں بیچی گئی، 2018 تک ساڑھے 400 ملین گندم پر سبسڈی دی گئی۔

سمیع اللہ چوہدری نے تحریک انصاف وہ واحد حکومت ہے، جس نے زمیداروں اور کاشتکاروں کے لئے کام کیا اور ان کے لئے آسانیا ں بنائی، انہوں نے کہا کہ پانچ  ہزار ٹن گندم پختونخواہ سپلائی کی جارہی ہے، سندھ اور بلوچستان بھی گندم مانگیں گے تو فراہم کی جائے گی۔ اس وقت 2.3 ملین ٹن گندم موجود ہے۔ پنجاب میں 482 سیلز پوائنٹ قائم کیے ہیں، انہوں نے مزید کہا ہے کہ صوبے میں آٹے کا تھیلا 790 روپے میں مل رہا ہے۔

 صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ بنیادی طور پر بحران سندھ میں ہے، پنجاب میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے، آٹے کا بحران سندھ حکومت کی نااہلی ہے۔ فیاض چوہان نے کہا ہے کہ سندھ میں پری پلان ذخیرہ اندوزی سے مصنوعی بحران کی کوشش کی گئی، دادو میں سرکاری گودام میں ایک لاکھ 94 ہزار بوریاں موجود تھیں، اب وہاں صرف باراں ہزار بوریاں رہ گئیں، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے سندھ کو بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

Read Previous

خیبر پختونخواہ میں روٹی کی قیمت 60روپے ہو گئی

Read Next

سندھ حکومت نے وفاق کو آئی جی سندھ کی تعیناتی کےلیے تین نام ارسال کردیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *