اگر پاکستان میں اٹلی اور فرانس والے حالات ہوتے پورا لاک ڈاﺅن کر دیتا ،سکول کالج بند کر دیے اب خود کو بند کرنا ہو گا : عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں اٹلی ، فرانس اور امریکہ والے حالات ہوتے تو میں پورے پاکستان میں لاک ڈاﺅن کر دیتا ، لاک ڈاﺅن کرتے ہیں تو غریب طبقہ پس جائے گا ، ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ دو ہفتوں تک اپنے اہل خانہ کو کھانا کھلا سکیں ، ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ انہیں گھروں میں کھانا فراہم کر سکیں ، یہ چین نے کیا کیونکہ ان کے پاس سسٹم اور پیسہ ہے ، اگر آپ کو نزلہ ، زکام یا بخار ہو تاہے تو ہسپتال میں جانے کی بجائے آپ خود کو گھر میں قرنطینہ کریں ، احتیاط کریں، 90 فیصد لو گ کورونا سے خود ہی چند دنوں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر ڈسپلن پر چلیں گے تو جس طرح چین نکلا ہے ہم بھی اس مشکل سے نکل جائیں گے ، مجھے آپ سے امید ہے اور آپ نے مجھے مایوس نہیں کرنا ،اناج بھاری مقدار میں موجود ہے ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا آغاز کلام قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا جس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا ۔عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ میر پاکستانیوں اس لیے مخاطب ہوں کہ ملک میں بحث ہے کہ ملک کو لاک ڈاﺅن کر دینا چاہیے ، پہلے میں بتا دوں کہ لاک ڈاﺅ ن ہوتا کیاہے ، پورا لاک ڈاون کا مطلب کرفیو لگانا ، یعنی شہریوں کو گھروں میں بند کر کے پولیس اور فوج کے ذریعے پہر ہ دینا کہ کوئی گھر سے نہ نکلے، اگر پاکستان کے وہ حالات ہوتے جو اٹلی ، امریکہ اور فرانس میں ہیں تو میں آج پورا لاک ڈاﺅن کر دیتا ، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ 25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہے ، اگر میں پورا لاک ڈاﺅن کر تاہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میرے ملک کے رکشہ چلانے ، دیہاڑی دار ، چھوٹے دکاندار گھروں میں بند ہو جائیں گے ،ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ دو ہفتوں کیلئے اپنے بیو ی بچوں کو کھانا فراہم کر سکے ۔

ان کا کہناتھا کہ ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ انہیں گھر میں کھانا پہنچا سکیں ، یہ چین نے کیا تھا ،وہ دنیا کا دوسرا امیر ترین ملک ہے ، وہ کر سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس سسٹم اور پیسہ تھا ، ہماری ایسی صورتحال نہیں ، اگر پورا لاک ڈاﺅ ن کرتاہوں تو میں سوچتا ہوں میرے غریب لوگوں کا کیا بنے گا ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ اگر آپ کو نزلہ ، زکام یا بخار ہو تاہے تو ہسپتال میں جانے کی بجائے آپ خود کو گھر میں قرنطینہ کریں ، احتیاط کریں، 90 فیصد لو گ کورونا سے خود ہی چند دنوں ٹھیک ہو جاتے ہیں ، ہسپتال ہمارے بزرگوں کو جاناپڑتا ہے کیونکہ ان کو سانس کی مشکل ہو تی ہے ، ان کیلئے ہسپتالوں میں جگہ رکھی ہو ئی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ کورونا وائرس اس وقت تیزی سے پھیلے گا جب ہم احتیاط نہیں کریں گے ، اگر گھروں میں شادیاں کریں گے ، چھٹی منائیں گے اور مل ملا کر لوگ جمع ہو جائیں گے ، اس صورت میں اگر یہ تیزی سے پھیلے گا تو ہم اپنے بزرگوں کی جان کو خظرے میں ڈال دیں گے ، یہ ہم بزرگوں پر ظلم کریں گے ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ ہم نے شاپنگ مالز ، سکولز ، یونیورسٹیاں اور کرکٹ میچز سب ختم کر دیئے ہیں ، یہ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ احتیاط کریں ، اللہ ایمان کو مشکل وقت میں آزماتا ہے ، اسی طرح ایک قوم کا مشکل وقت میں کردار پتا لگتا ہے ، میں نے اپنی قوم کو 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں دیکھا ہے ، مجھے اپنی قوم پر فخڑ ہے ، ہم نے بڑی تکلیفیں برداشت کیں ، اُس وقت میں جو پاکستانی قو نے کیا ،ہم اس سے بھی نکل جائیں گے ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ آج مجھے آپ کی ضرورت ہے ، آپ نے ٹھیک سے احتیاط نہ کی تو ساری قوم کو نقصان ہوگا ، سب کو مشکل ہو گی ، اس لیے کہہ رہاں ہوں کہ اپنے اوپر لاک ڈاﺅن کریں ، اگر کھانسی یا نزلہ ہوتاہے تو خود کو قرنطینہ کریں اور گھر میں رہیں ۔ اگر ڈسپلن پر چلیں گے تو جس طرح چین نکلا ہے ہم بھی اس مشکل سے نکل جائیں گے ، مجھے آپ سے امید ہے اور آپ نے مجھے مایوس نہیں کرنا ، ہم سارا وقت یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم نے کورونا سے کیسے مقابلہ کرنا ہے اور انڈسٹری کو دوبارہ کیسے بحال کرنا ہے